تاریخ احمدیت (جلد 1)

by Other Authors

Page 364 of 725

تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 364

تاریخ احمدیت جلدا ۳۶۳ سفر علی گڑھ قمری اعتبار سے کس معین تاریخ کو ہوا؟؟ یہ مسئلہ جماعت احمدیہ کے علمی حلقوں میں ابھی تک زیر تحقیق چلا آرہا ہے اور ایک معرکہ الاراء موضوع بنا ہوا ہے۔میرے نزدیک اس خالص علمی مسئلہ میں تحقیق و تفحص کے ذریعہ سے کسی نتیجہ خیز اور صحیح منزل کو پانے کے لئے مندرجہ ذیل حقائق بہترین مشعل راہ اور روشنی کا مینار ہیں۔اول : حضرت مسیح موعود و مهدی مسعود علیہ الصلوة والسلام نے ایک طرف اپنے اشتہار ۴۔مارچ ۱۸۸۹ء میں بیعت پر مستعد اصحاب کے لئے یہ اعلان عام فرمایا :- تاریخ ہذا سے جو ۴- مارچ ۱۸۸۹ ء ہے ۲۵- مارچ تک یہ عاجز لودیا نہ محلہ جدید میں مقیم ہے اس عرصہ میں اگر کوئی صاحب آنا چاہیں تو لو دیا نہ میں ۲۰ تاریخ کے بعد آجاویں"۔تبلیغ رسالت جلد اول صفحه ۱۵۰ حاشیه مرتبہ حضرت میر قاسم علی صاحب) دوسری طرف حضور انور نے حکیم الامت حضرت مولانا حکیم نورالدین کو یہ خصوصی ہدایت فرمائی کہ :- " بجائے ہیں کے بائیں کو آپ تشریف لاویں۔۔۔۔۔یہ عاجزا رادہ رکھتا ہے کہ ۱۵۔مارچ ۱۸۸۹ء لادیں۔کو دو تین روز کے لئے ہوشیار پور جاوے اور ۱۹ مارچ یا ۲۰ مارچ کو بہر حال واپس آجاؤں گا"۔(مکتوبات احمد یہ جلد پنجم نمر ۲ صفحه ۶۲ مرتبہ حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی مدیر الحکم) اس ارشاد سے ظاہر ہے کہ حضرت اقدس علیہ السلام کا منشاء مبارک بائیس مارچ کے بعد سلسلہ بیعت کہ آغاز کا تھا ورنہ حضور علیہ السلام حضرت مولوی صاحب کو جو ان دنوں جموں میں قیام فرما تھے جموں سے بائیس مارچ کو پہنچنے کا حکم نہ دیتے بلکہ بائیس مارچ سے پہلے وار دلدھیانہ ہونے کی تاکید فرماتے خصوصاً اس لئے بھی کہ حضرت مولوی صاحب نے ایک عرصہ سے حضور کی خدمت میں عرض کر رکھا تھا کہ جب حضور کو جناب الہی سے بیعت کا اذن ہو تو سب سے پہلے بیعت آپ کی لی جائے اور حضور اس درخواست و از راہ شفقت قبول فرما چکے تھے۔دوم - حضرت مولانا عبد اللہ صاحب سنوری سیدنا امسیح الموعود علیہ السلام نے نہایت جلیل القدر اور مشہور صحابی ، سرخ چھینٹوں کے کشفی نشان کے حامل ، براہین احمدیہ کی طباعت میں مخلص معاون اور مشہور سفر ہوشیار پور ۱۸۸۶ء میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خصوصی خادم تھے۔حضور نے اپنے قلم مبارک سے ازالہ اوہام میں ان کے لئے بہت تعریفی کلمات لکھتے ہیں۔حضور نے تحریر فرمایا ہے ” یہ جو ان صالح اپنی فطرتی مناسبت کی وجہ سے میری طرف کھینچا گیا ہے۔میں یقین رکھتا ہوں کہ وہ ان وفادار دوستوں میں سے ہے جن پر کوئی ابتلاء جنبش نہیں لا سکتا وہ متفرق وقتوں میں دودو "