تاریخ احمدیت (جلد 1)

by Other Authors

Page 363 of 725

تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 363

تاریخ احمدیت۔جلدا ۲۴۲ ۲۴۲ ۳۴۴ ۳۴۵ ۲۴۶ ۲۴۷ ۳۴۸ ٣٢٩ ۳۵۰ ۳۶۲ ۱۰- جولائی ۶۱۸۲ کرده ادخان ولد علم دین ساکن دھنگ ضلع گجرات تحصیل کھاریاں مرزا کریم بیگ ولد ستار بیگ ساکن کبیر پو ر مطلان ریاست کپور تھلہ تحصیل ہونگا پنشن یافتہ ۱۲- جولائی ۹۲ رای محمد دخان داده امر خان لڑکا نو عمر ساکن کپور تھلہ محلہ شیر گڑھ غلام محمد ولد نور محمد ساکن سا سوال تحصیل سلطان پور ریاست کپورتھلہ "1 - جولائی ۱۸۹۲ء لی محمد اسماعیل نقشه نویس و فوتوگرافر صدر بازار کیمپ انباله رشته دار منشی عبد العزیز ۲۰- :ولائی ۱۸۹۲ مولوی برہان الدین صاحب ولد مولوی یاسین صاحب جهلم شهر امام مسجد شیخ نظام الدین ولد محمد باشم سابق دکاندار شهر جسلم : "I شیخ قراند من ولد حیات بخش سابق دکاندار جمسلم جماعت کا سنگ بنیاد ۱۳ اگست ۱۸۹۲ میاں عبد الحمید ولد میاں ابراہیم برادر زاده مولوی برہان الدین صاحب ساکن جسلم ۱۴ اگست ۱۹۹۲ مولوی منشی صفدر علی صاحب والد محی الدین صاحب ساكن ضلع میدک علاقه ملک سرکار نظام ۱۴ اگست ۱۸۹۲ منفی عنایت اللہ نائب مدرس پنڈی بھٹیاں ضلع گوجرانوالہ یہ شخص حسب تحریر ۲۷ ستمبر ۱۸۹۲ء اپنے اعتقاد سے پھر گیا ہے ۲۸ تیر ۱۳۹۲۔۔ros "I For 11 ۳۵۴ r&a ۳۵۶ ۳۵۷ ۳۵۱ ۳۵۲ For Par نہوں نے آنے ماہوار چندہ مقرر کیا ہے۔ڈاکٹر فیض احمد ویکسی نیٹر ضلع جملم ساکن لگیا الی ضلع گوجر انوالہ خش کلاب الدین درس مدرسہ زنانہ رہتاس ضلع مسلم۔انہوں نے ۲ کا ہواری چندہ بھی مقرر کیا ہے۔سید محمد جمال الدین محاسب محکمہ کلکٹری ضلع در نکل ریاست دید در آباد نظام بذریعه شط مولوی فضل الدین ولد حافظ عبداللہ قوم گو جر ساکن کھاریاں تحصیل ایضا ضلع گجرات خود آکر بیعت کی۔۲۴ ستمبر ۱۸۹۲ مولوی حافظ احمد الدین ولد حافظ فضل الدین ساکن موضع چک اسکندر متصل دھور یہ تحصیل کھاریاں ضلع گجرات پیشه زمینداری اکتور ۱۸۹۴ مسمى الله و تا ساکن رہتاس ضلع جہلم معرفت منشی گلاب دین مدرس ۹ اکتوبر ۱۸۹۲ سمی غلام حسین ساکن رہتاس ضلع جمسلم معرفت منشی گلاب دین، درس ۸- نومبر ۱۸۹۳ حافظ محمد وند کمال ساکن پشاو ر ہشت نگری دروازہ کو نہ لیل باناں F1 عبد الله ولد حافظ محمد ساکن شهر و محلمه " ۲۸ نومبر ۱۸۹۳ یونس پر اور زادہ حافظ جمال الدین مرحوم بالفعل ساکن مشکل۔۔مسی فضل دین ولد قطب الدین موضوع۔۔۔تھانہ میر گڑھ چوڑیاں تحصیل بٹالہ ضلع گورداسپور رساله الفرقان بیعت اولیٰ کی تاریخ اور اس کے رجسٹر کے بارہ میں جدید تحقیق ربوہ مئی 1921ء (صفحہ ۱۷-۳۱) میں بیعت اولیٰ کی تاریخ اور اس کے رجر سے متعلق مولف کتاب ہذا کا حسب ذیل نوٹ شائع ہوا : " سلسلہ احمدیہ میں لدھیانہ کی بیعت اولی کو جو تاریخی اہمیت حاصل ہے وہ کسی احمدی سے قطعاً پوشیدہ نہیں۔اور یہ مسلمہ امر ہے کہ یہ اہم واقعہ (جس نے آئندہ چل کر نہ ہی دنیا پر ایک ہمہ گیر اور انقلاب انگیز اثر ڈالا) مارچ ۱۸۸۹ء میں پیش آیا جبکہ حاجی الحرمین الشریفین حضرت حکیم الامت مولانا حکیم مولوی نور الدین صاحب بھیروی ا نے حضرت بانی جماعت احمدیہ علیہ الصلواۃ و السلام کے دست مبارک پر سب سے پہلے بیعت کا شرف حاصل کیا۔علاوہ ازیں اس پر بھی اتفاق رائے ہے کہ اس آسمانی اور بابرکت تقریب کے پہلے روز چالیس قدوسیوں کا پاک نهاد صاف باطن اور خوش نصیب قافلہ بیعت امام الزمان کر کے داخل سلسلہ ہوا تھا۔مگر اس بیعت اوٹی کا آغاز سٹی و