تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 365
تاریخ احمدیت۔جلدا ۳۶۴ تین تین ماہ تک بلکہ زیادہ بھی میری صحبت میں رہا۔۔۔۔۔یہ نوجوان در حقیقت اللہ اور رسول کی محبت میں ایک خاص جوش رکھتا ہے۔الغرض میاں عبد اللہ نہایت عمدہ آدمی اور میرے منتخب محبوں میں سے ہے"۔(ازالہ اوہام طبع اول صفحہ ۷۹۶) حضرت مولوی عبد اللہ صاحب سنوری کی یہ خصوصیت ہے کہ آپ نے بیعت اوٹی میں چوتھے نمبر پر بیعت کی اور جیسا کہ آپ فرمایا کرتے تھے جہاں دوسرے مبائعین کو حضور کے حکم سے شیخ حامد علی صاحب نے کمرہ بیعت میں جانے کی آوازدی وہاں حضور انور نے خود آپ کو نام لے کر بلایا تھا۔(الفضل ۲۱- اکتوبر ۱۹۲۷ء) et اس شان کے خد انما بزرگ اور مسیح محمدی کے منتخب محب کا واضح اور قطعی بیان یہ ہے کہ :- پہلے دن جب آپ نے بیعت لی تو وہ تاریخ ۲۰ رجب ۱۳۰۶ھ مطابق ۲۳- مارچ ۱۸۸۹ء تھی۔(سیرت المہدی حصہ اول طبع دوم صفحہ ۷۷ مرتبہ حضرت مرزا بشیر احمد صاحب طبع اول ۱۰- د کمبر ۱۹۲۳ء - طبع ثانی ۱۴- نومبر ۱۹۳۵ء) سوم - حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی تراب (عرفانی) کانام نامی کسی تعارف کا محتاج نہیں۔آپ کا مقام سلسلہ احمدیہ کے پہلے صحافی اور پہلے مورخ کے لحاظ سے نہایت بلند ہے۔حضرت عرفانی گو پہلے دن بیعت سے مشرف نہیں ہوئے تھے مگر وہ ان ایام میں لدھیانہ میں تھے اور انہیں دنوں داخل بیعت ہو گئے تھے۔حضرت شیخ صاحب موصوف بھی حضرت مولانا عبد اللہ سنوری کی تائید میں یہ نظریہ رکھتے تھے کہ بیعت کا اصل دن ۲۰- رجب ۱۳۰۶ مطابق ۲۳ - مارچ ۱۸۸۹ء ہی ہے۔(حیات احمد جلد سوم صفحه (۲۸) چهارم - حضرت سید نا المصلح الموعود ان کی فطعی رائے تھی کہ بیعت اولی ۲۳۔مارچ ۱۸۸۹ء کو ہوئی تھی بلکہ حضور نے صرف اسی بناء پر ۲۳- مارچ ۱۹۴۴ء کا دن جلسہ مصلح موعود لدھیانہ کے لئے مقرر فرمایا اور پھر اس میں بنفس نفیس شرکت کی اور اپنے روح پرور خطاب کی ابتداء ہی ان مبارک کلمات سے فرمائی کہ :- اس شہر لدھیانہ میں ۲۳- مارچ ۱۸۸۹ء کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام۔۔۔۔۔۔نے بیعت لی تھی۔(الفضل ۱۸- فروری ۱۹۵۹ء) پنجم۔حضرت مرزا شریف احمد صاحب کا مسلک بھی اس کے مطابق تھا۔چنانچہ آپ تحریر فرماتے ہیں:- سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے لدھیانہ کے مقام پر سب سے پہلی بیعت ۲۳ - مارچ ۱۸۸۹ء کو لی تھی اور جماعت احمدیہ کا قیام معرض وجود میں آیا تھا۔