تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 334
+ تاریخ احمدیت جلدا ۳۳۳ حضرت اقدس کے جدی خاندان سے متعلق قهری نشان حواشی "رساله مخط و کتابت " مطبوعہ ۱۸۹۹ء مطبع عزیزی لاہور۔ايضا آئینہ کمالات اسلام » صفحه ۵۶۸ طبع اول - آئینہ کمالات اسلام ۳ صفحه ۵۷۶-۷۵۰ ( طبع اول) - ترجمه از آئینہ کمالات اسلام " صفحه ۵۶۹ طبع اول داشتهار ۲۰ فروری ۶۱۸۸۷ - تبلیغ رسالت " جلد اول صفحه ۱۲۰ ( حاشیہ) (ترجمہ از مرتب) میں نے اس عورت کو دیکھا کہ گریہ وزاری کے آثار اس کے چہرے پر تھے تب میں نے اس سے کہا کہ اے عورت تو بہ کر توبہ کر۔کیونکہ بلاء تیری نسل کے سر پر کھڑی ہے اور مصیبت تجھ پر نازل ہونے والی ہے وہ شخص (یعنی مرزا احمد بیگ) مرے گا اور کئی سنگ سیرت لوگ پیچھے رہ جائیں گے۔تبلیغ رسالت جلد اول صفحه ۱۹ حاشیه رشتہ کے لحاظ سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام محمدی بیگم کے غیر حقیقی ماموں ہوتے ہیں۔کیونکہ وہ حضور کی چچازاد بہن عمر النساء کی لڑکی اور مرز انظام الدین وغیرہ کی حقیقی بھانجی ہے۔آئینہ کمالات اسلام صفحه ۵۷۳- سرد رق کرامات الصادقین مکتوب بنام حضرت مولانا نور الدین ۲۰ جون ۱۸۸۲ء آئینہ کمالات اسلام صفحه ۵۷۲ تا ۵۷۴( طبع اول) " تبلیغ رسالت " جلد اول صفحہ ۱۱۸ تبلیغ رسالت " جلد اول ۱۱۹-۱۲۰ آئینہ کمالات اسلام صفحه ۲۸۰( طبع اول) -۱۵ کتاب "کلمه فضل رحمانی صفحه ۱۲۴ - ضمیمه انجام آتھم صفحه ۵۳ و آئینہ کمالات اسلام صفحه ۵۷۵-۵۷۶ ۱۷ اشاعۃ السنہ جلد ۵ تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو الفضل ۱۳۹- جون ۱۹۲۱ء صفحہ ۱۰-۸ بطور مثال دیکھئے "کنز العمال " جلد ا صفحہ ۱۲۷ مطبوعہ دائرۃ المعارف التظامیہ حیدر آباد ۱۳۱۲ھ ۲۰- چنانچہ حضرت اقدس تحریر فرماتے ہیں کہ " ماكانت الهام في هذه المقدمه الاوكان معه شرط - انجام آنقم " صفحه ۲۲۳ مطبوعہ ۱۸۹۷ء) یعنی اس باب میں جو الہام بھی ہو ا مشروط تھا۔-۲۱ اشتہار ۷ ستمبر ۱۸۹۴ء) تبلیغ رسالت جلد سوم صفحه ۱۲۰-۱۲۱) ۲۲- انجام آتھم صفحه ۳۲ حاشیه -۲۳ الفضل ۹۱۳ - جون ۱۹۲۱ء صفحه ۱۰ (بیان مرزا سلطان محمد صاحب) ۲۴۔ملاحظہ ہور سالہ شعید الاذہان مئی ۱۹۱۳ء -۲۵ یعنی حضرت خلیفہ المسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ العزیز الفضل ۹۱۳- جون ۱۹۲۱ء صفحہ ۱۰-۱۱ ۲۷- حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں ”نبی کی پیشگوئی کو ہمیشہ اس کے خارق عادت مفہوم کی رو سے دیکھنا چاہیے۔اور اگر کسی خاص پہلو پر پیشگوئی کا ظہور نہ ہو اور کسی دوسرے پہلو پر ظاہر ہو جائے اور اصل امر جو اس پیشگوئی کا فارق عادت ہوتا ہے وہ دوسرے پہلو میں بھی پایا جائے۔اور واقعہ کے ظہور کے بعد ہر ایک عقلمند کو سمجھ آجائے کہ یہی صحیح معنے پیشگوئی کے ہیں جو واقعہ نے اپنے ظہور سے آپ کھول دیئے ہیں تو اس پیشگوئی کی عظمت اور وقعت میں کچھ بھی فرق نہیں آتا۔اور اس پر ناحق نکتہ چینی کرنا شرارت اور بے ایمانی اور ہٹ دھرمی ہوتی ہے"۔(براہین احمدیہ حصہ پنجم (ضمیمہ) صفحہ ۹۰۰۸۹ ( طبع اول) اس امر کی ایک