تاریخ احمدیت (جلد 1)

by Other Authors

Page 333 of 725

تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 333

تاریخ احمدیت جلدا ۳۳۲ حضرت اقدس کے جدی خاندان سے متعلق قهری نشان اپنی خود نوشته سوانح حیات میں جو فارسی میں ہے۔ذکر فرمایا ہے یہ ۱۳- جون ۱۸۸۸ء کی تحریر ہے حضرت اقدس کی کتاب براہین احمدیہ اور آپ کے چیلنج کا جو اس کتاب میں مخالفین اسلام کے نام مفصل ذکر کرتے ہوئے اخیر میں تحریر فرماتے ہیں۔۱۳- جون ۱۸۸۸ء چوں ، مقصبه سنور که متصل پیاله است تشریف اوردند مشرف بزیارت گشتم میانہ قد - گندم گوں - کشادہ پیشانی ریش مخضب مخضاب - عمر قریب چهل سال داشتند - سلام گفته مصافحه کرده بشتم خلقه بزیارت اینان گرد آمده بود۔از چهره اش آثار بزرگی و جلال الهی نمودار۔۔۔۔۔و ظاهرش با حکام شریعت موافق و استوار و الباطن معلمه الله حلم و حیا بسے غالب - نماز پیشین در پس اینان ادا کردم۔۔۔۔۔۔هر چند که استعداد شناختن این چنیں مردم ندارم مگر وجود باجود ایتان بمنزله رحمت الهی و برائے اسلام و اسلامیان تقویت لامتناهی است از مجدد بودن ایناں انکار کردن بحجر جهل و نادانی چیزی دیگر نیست سلمہ اللہ " غرضکہ یہ سفر بخیر و خوبی طے ہوا مہینوں پٹیالہ کے لوگوں میں حضرت کی تشریف آوری کا چرچا ہوتا رہا۔۱۸۹۱ء میں حضرت اقدس کو پھر پٹیالہ جانے کا اتفاق ہوا"۔واپسی پر ایک حادثہ سفر پر روانہ ہونے سے قبل حضرت اقدس کو الہام ہوا تھا کہ اس سفر میں کچھ نقصان ہو گا اور کچھ ہم و غم پیش آئیگا۔چنانچہ جب حضرت اقدس پٹیالہ سے واپسی پر لدھیانہ آنے لگے تو عصر کا وقت تھا ایک جگہ آپ نے نماز ادا فرمانے کے لئے اپنا چغہ اتار کروزیر اعظم کے ایک نوکر کو دیا تا وضو کریں۔پھر جب نماز سے فارغ ہو کر ٹکٹ لینے کے لئے جیب میں ہاتھ ڈالا تو معلوم ہوا کہ جس رومال میں روپے بندھے ہوئے تھے وہ گر گیا ہے۔پھر حضور جب گاڑی پر سوار ہوئے تو راستہ میں ایک سٹیشن دوراہہ پر حضور کے ایک ساتھی کو کسی مسافر انگریز نے محض دھو کہ رہی سے اپنے فائدہ کے لئے کہدیا کہ لدھیانہ آگیا ہے۔چنانچہ اس جگہ آپ اور دیگر ساتھی اتر پڑے لیکن جب ریل چل دی تو معلوم ہوا کہ یہ کوئی اور سٹیشن تھا۔اس طرح الہام کے دونوں حصے پورے ہو گئے۔۳۵