تاریخ احمدیت (جلد 1)

by Other Authors

Page 324 of 725

تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 324

تاریخ احمدیت۔جلدا ۳۲۳ حضرت اقدس کے جدی خاندان سے متعلق قهری نشان غرض پیشگوئی کے مطابق مرزا احمد بیگ کی موت نے ان کے پورے خاندان کو مجسم غم واندوہ بنا دیا ان کے داماد مرزا سلطان محمد صاحب کا سب سے زیادہ متاثر ہونا ایک قدرتی امر تھا کیونکہ جب دو شخصوں کے لئے ہلاکت کی پیشگوئی ہو۔اور ایک پیشگوئی کی میعاد مقررہ پوری ہونے سے بہت پہلے ہی ہلاک ہو جائے تو دوسرے پر جو گزرے گی اور وہ جتنا بھی متفکر و متردد اور ترسان و لرزاں ہو جائے گا وہ محتاج بیان نہیں۔چنانچہ مرزا سلطان محمد صاحب نے بھی زاری اور دعا کی اور دل سے یقین کر لیا کہ ان کے خسر مرزا احمد بیگ پیشگوئی کے مطابق فوت ہوئے ہیں۔نتیجہ یہ ہوا کہ خدا تعالٰی نے مرزا سلطان محمد صاحب کو موت کی سزا سے بچالیا۔علماء کو دعوت مباہلہ مرزا سلطان محمد صاحب جب تک میعاد مقررہ کے دوران میں زندہ رہے حضرت اقدس کی پیشگوئی کے خلاف کچھ نہیں کہا گیا۔مگر اس کے بعد جب یہ میعاد ختم ہو گئی اور مرزا سلطان محمد صاحب تائب ہونے کی وجہ سے بچ گئے تو چاروں طرف سے شدید مخالفت اٹھ کھڑی ہوئی۔حالانکہ صدقہ دعا اور گریہ وزاری سے بڑے بڑے عذابوں کا ( خواہ وہ تقدیر مبرم ہی کا حکم کیوں نہ رکھتے ہوں) ٹل جانا خدا تعالٰی کی ازلی ابدی سنت سے ثابت ہے اور خصوصاً قرآن مجید اور احادیث اور اکابر امت کا لٹریچر تو اس کی شہادتوں سے بھرا پڑا ہے۔اور اس پیشگوئی میں تو بار بار تو بہ کرنے پر مصائب کے ٹل جانے کا مسلسل تذکرہ تھا۔لیکن عیسائی ، آریہ اور ان کی پشت پناہی میں آپ کے مخالف علماء نے صرف اس وجہ سے کہ مرزا سلطان محمد تو بہ کی وجہ سے بچ گیا تھا۔یہ پراپیگنڈا شروع کر دیا کہ معاذ اللہ پیشگوئی غلط ثابت ہوئی۔حضرت اقدس نے خدا کے نشان کی یوں تکذیب دیکھی تو آپ نے تین بڑے علماء (شیخ محمد حسین صاحب بٹالوی مولوی عبد الجبار صاحب غزنوی اور مولوی رشید احمد صاحب گنگوہی کو انعامی چیلنج دیا کہ وہ ایک جلسہ عام میں الہامی پیشگوئیوں کے عذاب موت کی معین تاریخوں کے ٹل جانے کے متعلق دو گھنٹہ تک کتاب اللہ اور احادیث نبویہ اور کتب سابقہ کی نصوص صریحہ ہم سے سنیں۔اور پھر اگر اس مجمع میں تین بار حلفاً کہہ دیں کہ اے خدائے قادر ذو الجلال جو جھوٹوں کو سزا دیتا اور بچوں کی حمایت کرتا ہے۔میں تیری ذات کی قسم کھا کر بیان کرتا ہوں کہ جو کچھ دلائل پیش کئے گئے ہیں وہ سب دلا کل باطل ہیں اور تیری یہ ہرگز عادت نہیں کہ وعید میں کسی کی تو بہ یا خائف اور ہراساں ہونے سے تاخیر کر دے بلکہ ایسی پیشگوئی سراسر جھوٹ یا شیطانی ہے اور ہرگز تیری طرف سے نہیں۔اور اے تا در خدا اگر تو جانتا ہے کہ میں نے جھوٹ بولا ہے تو مجھے ذلت اور دکھ کے عذاب سے ہلاک کر۔اس کے بعد بلا توقف آپ قسم کھانے والے کو غیر مشروط طور پر دو سو روپیہ نقد انعام دے دیں گے۔