تاریخ احمدیت (جلد 1)

by Other Authors

Page 325 of 725

تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 325

تاریخ احمدیت۔جلد؟ ۳۲۴ حضرت اقدس کے جدی خاندان سے متعلق قمری نشان - علاوہ ازیں حضور نے تین سال بعد یہ پر شوکت اعلان بھی فرمایا کہ فیصلہ تو پر شوکت اعلان آسان ہے احمدبیگ کے دامادسلطان محمد کو کو کہ مذیب کا اشتہار دے پھر اس کے بعد جو میعاد خد اتعالیٰ مقرر کرے۔اگر اس سے اس کی موت تجاوز کرے تو میں جھوٹا ہوں۔اور ضرور ہے کہ یہ وعید کی موت اس سے تھی رہے جب تک کہ وہ گھڑی آجائے کہ اس کو بیباک کر دیوے۔سو اگر جلدی کرتا ہے تو اٹھو اور اس کو بیباک اور مہذب بناؤ اور اس سے اشتہار دلاؤ اور خدا کی قدرت کا تما شاد کھو"۔اس اعلان پر آریوں نے لیکھرام کے قتل اور عیسائیوں نے آتھم کی موت کے باعث مرزا سلطان محمد صاحب کو بڑی بڑی رقموں کی پیش کش کی تاوہ کسی طرح حضرت اقدس پر مالش کر دیں۔مگر حضور کی سچائی سے متعلق ان میں اتنا زبردست اثر پڑ چکا تھا کہ انہوں نے اس پیش کش کو پائے استحقار سے ٹھکرا دیا - a حضرت مسیح موعود کی وفات کے بعد ایک دفعہ مرزا مرزا سلطان محمد صاحب کا اظہار حق سلطان محمد صاحب نے ۲۱ - مارچ ۱۹۱۳ء کو ایک تحریر بھی لکھ کر دی جس کا عکس جماعت احمدیہ کے لٹریچر میں برسوں سے شائع شدہ ہے۔اس تحریر میں انہوں نے لکھا۔کہ ”میں جناب مرزا جی صاحب مرحوم کو نیک- بزرگ- اسلام کا خدمت گزار - شریف النفس - خدایاد پہلے بھی اور اب بھی خیال کر رہا ہوں۔مجھے ان کے مریدوں سے کسی قسم کی مخالفت نہیں ہے بلکہ افسوس کرتا ہوں کہ چند ایک امورات کی وجہ سے ان کی زندگی میں ان کا شرف حاصل نہ کر سکا۔۱۹۲۱ء میں حافظ جمال احمد صاحب ( مبلغ ماریشس ) ان سے موضع پٹی میں ملے تو انہوں نے حلفیہ بیان دیا۔کہ انہیں حضرت اقدس کی اس پیشگوئی یا آپ کے دعوی کی سچائی پر کسی قسم کا کوئی اعتراض نہیں ہے۔اس پر حافظ صاحب نے کہا پھر آپ بیعت کیوں نہیں کرتے۔مرزا سلطان محمد صاحب نے جواب دیا۔اس کے وجوہات کچھ اور ہی ہیں جن کا اس وقت ذکر کرنا میں مصلحت کے خلاف سمجھتا ہوں۔میں بہت چاہتا ہوں کہ ایک دفعہ قادیان جاؤں کیوں کہ مجھے حضرت میاں صاحب کی ملاقات کا بہت شوق ہے اور میرا ارادہ ہے کہ ان کی خدمت میں حاضر ہو کر تمام کیفیت بیان کروں۔پھر چاہے وہ شائع بھی کر دیں تو مجھے کوئی اعتراض نہیں ہو گا مگر گولی لگنے کی وجہ سے جو اب مجھے لاٹھیوں پر چلنے کی وقت ہے۔یہ وہاں جانے میں روک ہو جاتی ہے۔خیال آتا ہے کہ اس ہیئت کے ساتھ میں کیا جاؤں۔باقی رہی بیعت کی بات میں قسمیہ کہتا ہوں کہ جو ایمان اور اعتقاد مجھے حضرت مرزا صاحب پر ہے میرا خیال ہے کہ آپ کو بھی جو بیعت کر چکے ہیں۔اتنا نہیں ہو گا "۔