تاریخ احمدیت (جلد 1)

by Other Authors

Page 323 of 725

تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 323

تاریخ احمدیت جلدا ۳۲۲ حضرت اقدس کے جدی خاندان سے متعلق قمری نشان مطابق حضرت اقدس ۱۷- جولائی ۱۸۹۰ء کے ایک مکتوب میں تحریر فرماتے ہیں۔” ہزاروں پادری شرارت سے نہیں بلکہ حماقت سے منتظر ہیں کہ یہ پیشگوئی جھوٹی نکلے تو ہمار اپلہ بھاری ہو۔لیکن یقینا خدا تعالٰی ان کو رسوا کرے گا۔اور اپنے دین کی مدد کرے گا۔میں نے لاہور میں جاکر معلوم کیا کہ ہزاروں مسلمان مساجد میں نماز کے بعد اس پیشگوئی کے ظہور کے لئے بصدق دل دعا کرتے ہیں سو یہ ان کی ہمدردی اور محبت ایمانی کا تقاضا ہے "۔پیشگوئی کے بعض حیرت انگیز پہلو مرزا احمد بیگ کی وفات سے متفق تو پہلے ہی اجمالی طور پر خبر موجود تھی۔مگر قدرت نے جب تفصیلات کی گرہیں کھولیں تو اس میں ضمناً کئی حیرت انگیز پیش گوئیاں نکل آئیں۔مثلاً اول - نکاح سے انحراف ضرور ہو گا۔دوم- نکاح کے وقت تک حضرت اقدس زندہ رہیں گے۔سوم - نکاح کے وقت تک مرزا احمد بیگ بھی زندہ رہے گا۔چہارم۔نکاح کے وقت تک محمدی بیگم بھی زندہ رہے گی۔پنجم - نکاح کے بعد مرزا احمد بیگ تین سال کے اندر اندر مر جائے گا۔ششم۔اس پیشگوئی کے سلسلے میں صرف ایک شخص کی موت واقع ہو گی۔ہفتم۔اغیار اپنی کج نظری کے باعث تمسخر اور استہزاء کریں گے۔چنانچہ یہ سب پیشگوئی پیشگوئیاں اس درجہ خارق عادت رنگ میں پوری ہو ئیں کہ عقل محو حیرت ہو جاتی ہے۔کی کا ظہور پیشگوئی کے مطابق جب تک مرزا احمد بیگ نے نکاح نہیں کیا حضرت اقدس بھی زندہ رہے مرزا احمد بیگ بھی زندہ رہا۔اور اس کی بیٹی محمدی بیگم بھی زندہ رہی یہ گویا خدائے قادر کی طرف سے تین افراد کی زندگی کی ضمانت تھی جو چار سال تک معجزانہ طور پر صحیح ثابت ہوئی۔لیکن اس کے بعد جب مرزا احمد بیگ نے ۷ے۔اپریل ۱۸۹۲ء کو اپنی لڑکی محمدی بیگم کا نکاح مرز اسلطان محمد صاحب آف پٹی سے کر دیا تو وہ مرزا احمد بیگ جسے خدا تعالٰی نے پیشگوئی کے بعد چار سال تک زندہ رکھا تھا۔نکاح کر دینے کے چھٹے ہی مہینے ۳۰۔ستمبر ۱۸۹۲ء کو مطابق پیشگوئی ہلاک ہو گیا۔مرزا احمد بیگ کا اس دنیا سے گزرنا ہی تھا کہ پورے خاندان میں صف ماتم بچھ گئی۔اد وہ کہرام مچا کہ الامان ! الحفیظ! اور افراد خاندان بلکہ مرزا احمد بیگ کے گاؤں والے بھی سخت دہشت زدہ ہو گئے۔اور سخت ماتم پڑا حتی کہ عورتوں نے اپنی چیخ پکار میں یہ الفاظ بھی کہ دیئے۔کہ ”ہائے وہ باتیں کچی نکلیں۔آج ہمارا دشمن جس نے ہمارے لئے پیشگوئی کی تھی سچا ثابت ہو گیا"۔یہ اتنا عظیم الشان قهری نشان تھا کہ مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی نے بھی (جواب اول المکفرین ہونے کی وجہ سے تمام مخالفین ہند کے سرخیل بن چکے تھے ) اعتراف کیا کہ اگر چہ یہ پیشگوئی تو پوری ہو گئی مگر یہ الہام نہیں بلکہ علم رمل یا نجوم وغیرہ سے کی گئی۔١٦