تاریخ احمدیت (جلد 1)

by Other Authors

Page 292 of 725

تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 292

تاریخ احمدیت۔جلدا ۲۹۱ CA سر ہو شیار پور بیعت کر لیتا۔اب میں اپنے چھوٹے بھائی کی بیعت کیا کروں۔چنانچہ اسی تذبذب میں خلافت ثانیہ کے بھی ۱۵ سال گزر گئے اور عمر کا آخری حصہ آپہنچا۔ہاتھ پاؤں جواب دے گئے اور پاؤں کو باسانی ہلانے کی سکت بھی باقی نہ رہی کہ یکا یک انہوں نے دسمبر ۱۹۳۰ ء میں حضرت خلیفہ المسیح الثانی المصطلح الموعود ایدہ اللہ کو پیغام بھیجا کہ میں تو چل نہیں سکتا آپ کسی وقت آکر میری بیعت لے لیں۔چنانچہ حضور نے اسی دن ان کی بیعت لی۔حضور ان کی چارپائی کے قریب ہی بیٹھ گئے اور مرزا سلطان احمد صاحب نے اپنا ہاتھ بیعت کے لئے بڑھا دیا۔اور بیعت کرلی اور اس طرح مصلح موعود کی بدولت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے تین زندہ صلیبی و روحانی بیٹوں ( حضرت مصلح موعود حضرت مرزا بشیر احمد صاحب اور حضرت مرزا شریف احمد صاحب) میں مرزا سلطان احمد صاحب کا بھی اضافہ ہو گیا۔عجیب بات یہ ہے کہ خود مرزا سلطان احمد صاحب رضی اللہ عنہ کو بھی مدتوں قبل بذریعہ رویا یہ بتایا گیا تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کھڑے ہیں اور وہ بھی حضور کے پاس ہیں اور وہاں ایک جگہ پر چار کرسیاں بچھی ہیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے آپ سے کہا کہ ایک کرسی پر تم بیٹھ جاؤ" تین کو چار کرنے والا چوتھی بار ظہور ہمارے سامنے پاکستان میں ربوہ ایسے عظیم الشان مرکز احمدیت کے قیام سے ہوا۔چنانچہ مکہ مکرمہ مدینہ منورہ اور قادیان کے اسلامی مراکز پہلے سے موجود تھے۔حضرت امیرالمومنین خلیفہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالٰی بنصرہ العزیز نے ربوہ بسا کر ان تین مراکز میں ایک اور کا اضافہ فرما دیا۔اور اس طرح آپ تین کو چار کرنے والے بن گئے۔خود ” تین کو چار کرنے والا ہو گا" کی عبارت کے سیاق و سباق میں اس نئے اور چوتھے مرکز کی بعض اہم خصوصیات کی طرف اشارہ بھی کر دیا گیا تھا۔مثلاً " دو شنبہ ہے مبارک دو شنبہ" کے الفاظ میں اس مرکز کے یوم افتتاح کی خبر دی گئی تھی اور اس سے قبل "علوم باطنی " کے الفاظ کو اس صفت سے پیوست کر کے یہ اطلاع دی گئی تھی کہ مصلح موعود کو اس چوتھے مرکز کے قیام کی قبل از وقت بذریعہ کشف و رویا خبر دی جائے گی جو مسلمہ طور پر علوم باطنی کا سر چشمہ اور ماخذ ہوتے ہیں۔چنانچہ اس خبر کے عین مطابق نہ صرف ربوہ کا افتتاح ۲۰۔ستمبر ۱۹۴۸ء کو ہوا۔جو دو شنبہ تھا بلکہ اس کے افتتاح سے سات برس پیشتر آپ کو پہاڑیوں کے دامن میں ایک نئے مرکز کے قیام کا کشفی بشمارہ دکھا دیا گیا۔د غرضکہ وہ تین کو چار کرنے والا ہو گا" کی صفت حضرت مصلح موعود خلیفہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالی کی ذات میں متعدد رنگ میں پوری ہوئی اور اس طرح مصلح موعود کی الہامی پیشگوئی کا کوئی گوشہ ایسا نہیں رہا جو خارق عادت رنگ میں پورا نہ ہو چکا ہو۔