تاریخ احمدیت (جلد 1)

by Other Authors

Page 293 of 725

تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 293

تاریخ احمد بیت - جلدا ۲۹۲ سفر ہوشیار پور پیشگوئی مصلح موعود اور مؤلف "مجدد اعظم" جناب ڈاکٹر بشارت احمد صاحب مولف " مجدد اعظم" نے " پیشگوئی مصلح موعود بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ حضرت مرزها صاحب کے لڑکوں میں مصلح موعود کوئی بھی نہ ہوا"۔نیز کہا ہے کہ " مصلح موعود لڑ کا کسی آئندہ نسل میں جب اللہ تعالیٰ چاہے گا پیدا ہو گا۔اسی طرح یہ بھی قیاس آزمائی کی ہے کہ "یہ بھی ممکن کیا بلکہ اغلب ہے کہ بیٹے سے مراد روحانی بیٹا ہو " یہ بھی اجتہاد کیا ہے کہ چوتھی صدی اس سلسلہ کے غلبہ کی صدی ہے اور غالنہا وہی وقت ہو گا جب کوئی شخص دنیا کو راہ راست پر لانے والا آئے گا۔بہر حال اس سے پہلے تو آ نہیں سکتا۔مولف صاحب " مجدد اعظم" نے اس تمام تر مفروضے کی بنیاد اس امر پر رکھی ہے کہ "اگر کوئی اس پیشگوئی کا مصداق ہو سکتا تھا تو وہ حضرت صاحب کا چوتھا لڑ کا مبارک احمد ہو سکتا تھا۔کیونکہ ان کی ولادت سے پہلے دوبارہ اس ”تین کو چار کرنے والے لڑکے کی آمد کے متعلق الہام ہوا تھا مگران کے فوت ہو جانے سے اللہ تعالٰی کے فعل نے ثابت کر دیا کہ وہ بھی اس کے مصداق حقیقی نہ تھے "۔اپنا یہ نظریہ صحیح ثابت کرنے کے لئے انہوں نے ایک عبارت تصنیف کر کے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی طرف منسوب کردی اور لکھا کہ حضرت اقدس تریاق القلوب میں نہایت صاف الفاظ میں یہ تحریر فرماتے ہیں۔یہ پیشگوئی تین کو چار کرنے والے کی جو پہلے ۲۰- فروری ۱۸۸۶ء کے اشتہار میں شائع ہوئی اور بعد میں تین لڑکوں یعنی محمود بشیر اور شریف کے پیدا ہو جانے کے بعد انجام آتھم اور ضمیمہ میں خدا نے پھر اطلاع دی کہ وہ تین کو چار کرنے والا یعنی مصلح موعود اب آئے گا"۔حقیقت یہ ہے کہ یہ الفاظ ” تریاق القلوب" میں ہرگز موجود نہیں۔اور خود ساختہ ہیں۔تنہا اس ایک مثال سے ہی واضح ہو جاتا ہے کہ انہوں نے تاریخ احمدیت ایسے اہم اور نازک موضوع پر قلم اٹھاتے ہوئے کہاں تک ذمہ داری کا ثبوت دیا ہے 111