تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 288
تاریخ احمدیت۔جلدا ۲۸۷ سفر ہو شیار پور اس پیش گوئی کو پڑھو اور بار بار پڑھو اور پھر ایمان سے کہو کہ کیا یہ پیشگوئی پوری نہیں ہوئی۔جس وقت یہ پیشگوئی کی گئی ہے اس وقت موجودہ خلیفہ ابھی بچے ہی تھے اور مرزا صاحب کی جانب سے انہیں خلیفہ مقرر کرانے کے لئے کسی قسم کی وصیت بھی نہ کی گئی تھی بلکہ خلافت کا انتخاب رائے عامہ پر چھوڑ دیا گیا تھا۔چنانچہ اس وقت اکثریت نے حکیم نور الدین صاحب کو خلیفہ تسلیم کر لیا جس پر مخالفین نے محولہ صدر پیشگوئی کا مذاق بھی اڑایا لیکن حکیم صاحب کی وفات کے بعد مرزا بشیر الدین محمود احمد خلیفہ مقرر ہوئے اور یہ حقیقت ہے کہ آپ کے زمانہ میں احمدیت نے جس قدر ترقی کی وہ حیرت انگیز ہے۔خود مرزا صاحب کے وقت میں احمدیوں کی تعداد بہت تھوڑی تھی خلیفہ نور الدین صاحب کے وقت میں بھی خاص ترقی نہ ہوئی تھی لیکن موجودہ خلیفہ کے وقت میں مرزائیت قریباً دنیا کے ہر خطہ تک پہنچ گئی اور حالات یہ بتلاتے ہیں کہ آئندہ مردم شماری میں مرزائیوں کی تعداد ۱۹۳۱ ء کی نسبت دگنی سے بھی زیادہ ہو گی بحالیکہ اس عہد میں مخالفین کی جانب سے مرزائیت کے استیصال کے لئے جس قدر منظم کوششیں ہوئی ہیں پہلے کبھی نہیں ہوئی تھیں"۔الغرض آپ کی ذریت میں سے ایک شخص پیشگوئی کے مطابق جماعت کے لئے قائم کیا گیا اور اس کے ذریعہ جماعت کو حیرت انگیز ترقی ہوئی جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ مرزا صاحب کی یہ پیشگوئی من وعن پوری ہوئی"۔دوسری شهادت:- ہندوستان کے ایک غیر مسلم سکھ صحافی ارجن سنگھ ایڈیٹر " رنگین " امرتسر نے تسلیم کیا کہ مرزا صاحب نے ۱۹۰۱ء میں جب کہ میرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب موجودہ خلیفہ ابھی بچہ ہی تھے یہ پیشگوئی کی تھی کہ بشارت دی کہ اک بیٹا ہے تیرا جو ہو گا ایک دن محبوب میرا دور اس سے اندھیرا دکھاؤں گا کہ اک عالم کو پھیرا کروں گا " هم بشارت کیا فسبحان - ہے اک دل کی غذا دی الذي اخزى الأعادي یہ پیشگوئی بے شک حیرت پیدا کرنے والی ہے 1901 ء میں نہ میرزا بشیر الدین محمود کوئی بڑے عالم و فاضل تھے اور نہ آپ کی سیاسی قابلیت کے جو ہر کھلے تھے اس وقت یہ کہنا کہ تیرا ایک بیٹا ایسا اور ایسا ہو گا ضرور کسی روحانی قوت کی دلیل ہے یہ کہا جا سکتا ہے کہ چونکہ میرزا صاحب نے ایک دعوی کر کے گدی کی بنیاد رکھ دی تھی۔اس لئے آپ کو یہ گمان ہو سکتا تھا کہ میرے بعد میری جانشینی کا سہرا میرے لڑکے کے سر پر رہے گا لیکن یہ خیال باطل ہے اس لئے کہ میرزا صاحب نے خلافت کی یہ شرط نہیں رکھی کہ