تاریخ احمدیت (جلد 1)

by Other Authors

Page 287 of 725

تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 287

تاریخ احمدیت۔جلدا ули کر ہوشیار پور ۳۵ عظیم الشان کام لے گا۔یہی وجہ ہے کہ آپ جب 1911 ء میں بیمار ہوئے تو آپ نے وصیت فرمائی کہ آپ کے بعد محمود خلیفہ ہو گا۔حضرت خلیفہ اول تو حضرت مسیح موعود کے مزاج شناس اور ترجمان حقیقت تھے اس لئے ان کا یہ مسلک ناگزیر تھا لیکن یہ تو ایسی کھلی حقیقت تھی جس کے متعلق جماعت میں عام چرچے رہتے تھے۔مثلاً حضرت صاحبزادہ مرزا محمود احمد ایدہ اللہ تعالیٰ کی ۱۹۱۰ء کے سالانہ جلسہ کی تقریر دلپذیر سن کر جماعت کے نامور عالم مولانا محمد احسن صاحب امروہی بے ساختہ پکار اٹھے کہ : ایک یہ بھی الہام تھا کہ اِنَّا نُبَشِّرُكَ بِغُلَامٍ مَظهَرِ الْحَقِّ وَالْعُلاء۔۔۔الخ جو اس حدیث کی پیشین گوئی کے مطابق تھا جو مسیح موعود کے بارے میں ہے کہ یتزوج و یو لد له یعنی آپ کے ہاں ولد صالح عظیم الشان پیدا ہو گا۔چنانچہ حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب موجود ہیں"۔پسر موعود کے متعلق مبینہ علامات مندرجہ بالا واقعات سے ثابت ہے کہ سیدنا کا خارق عادت رنگ میں ظہور | حضرت میرزا بشیر الدین محمود احمد خلیفہ المسیح الثانی المصلح الموعود ایدہ اللہ تعالیٰ کے وجود ! میں ابتداء ہی سے پسر موعود کی جھلک نمایاں طور پر جماعت کے سامنے آچکی تھی مگر خدائی نوشتوں کے مطابق جب آپ حضرت خلیفہ المسیح اول کی وفات کے بعد خلیفہ منتخب ہوئے تو آپ کے متعلق آسمانی وعدوں کا ایک ایک جز نهایت برق رفتاری سے پورا ہونا شروع ہو گیا اور ابھی آپ کے عہد خلافت پر تھوڑا عرصہ ہی گزرا تھا کہ ایک عالم کی آنکھیں خیرہ ہو گئیں اور بالاخر مسلم و غیر مسلم حلقے بھی یہ تسلیم کرنے پر مجبور ہو گئے کہ آپ موجودہ دنیا کی ایک عظیم ترین ہستی ہیں اور اب جب کہ یہ تاریخ مرتب ہو رہی ہے بلا مبالغہ کہا جا سکتا ہے کہ پیشگوئی پسر موعود کی کوئی بھی اہم علامت ایسی نہیں جس کے آپ میں پائے جانے کا بالواسطہ یا بلاواسطہ کسی نہ کسی رنگ میں غیروں کی زبان و قلم سے اقرار نہ کیا جا چکا ہو۔زبردست شہادتیں اس ضمن میں بطور مثال صرف چند شہادتیں درج کی جاتی ہیں۔پہلی شہادت: ایک معزز غیر احمدی عالم مولوی سمیع اللہ خاں صاحب فاروقی نے قیام پاکستان سے قبل اظہار حق" کے عنوان سے ایک ٹریکٹ میں لکھا۔" آپ کو (یعنی حضرت مسیح موعود کو۔ناقل) اطلاع ملتی ہے کہ ” میں تیری جماعت کے لئے تیری ہی ذریت سے ایک شخص کو قائم کروں گا اور اس کو اپنے قرب اور وحی سے مخصوص کروں گا اور اس کے ذریعہ سے حق ترقی کریگا اور بہت سے لوگ سچائی قبول کریں گے "