تاریخ احمدیت (جلد 1)

by Other Authors

Page 282 of 725

تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 282

تاریخ احمدیت جلدا ۲۸۱ سفر ہو شیار پور پنڈت لیکھرام کی اس ہرزہ سرائی کے علاوہ پنڈت اندر من مراد آبادی نے بھی نکتہ چینی کی کہ نو برس کی حد جو پسر موعود کے لئے بیان کی گئی ہے بڑی گنجائش کی جگہ ہے ایسی لمبی میعاد تک تو کوئی نہ کوئی لڑکا پیدا ہو ہی سکتا ہے۔یہ تو دشمنان اسلام تھے ان کے لئے یہ مخالفت تعجب کا محل نہ تھی۔حیرت اس بات پر ہے کہ قادیان کے بعض نام نہاد مسلمانوں (حافظ سلطان کشمیری وصابر علی نے عدوان اسلام کی پیٹھ ٹھونکتے ہوئے یہ مشہور کر دیا کہ لڑکا تو ڈیڑھ ماہ سے پیدا ہو چکا ہے۔ایک شخص محمد رمضان نے پنجابی اخبار (۲۰ مارچ ۱۸۸۶ء) میں ایک تہذیب و شائستگی سے گرا ہو ا مضمون بھی لکھا۔III حضرت مسیح موعود نے لیکھرام کے تعفن آلودا اشتہار کا فیصلہ تو مستقبل پر چھوڑا۔البتہ اندر من کو جواب دیا کہ جن صفات خاصہ کے ساتھ لڑکے کی بشارت دی گئی ہے کسی لمبی میعاد سے گونو برس سے بھی دو چند ہو تی اس کی عظمت و شان میں فرق نہیں آسکتا۔آپ نے ۲۲ مارچ ۱۸۸۶ء کے اشتہار میں یہ بھی لکھا کہ "یہ صرف پیشگوئی ہی نہیں بلکہ ایک عظیم الشان نشان آسمانی ہے جس کو خدائے کریم جل شانہ نے ہمارے نبی کریم رؤف رحیم محمد مصطفی ﷺ کی صداقت و عظمت ظاہر کرنے کے لئے ظاہر فرمایا ہے۔جولوگ مسلمانوں میں چھپے ہوئے مرتد ہیں وہ آنحضرت کے معجزات کا ظہور دیکھ کر خوش نہیں ہوتے بلکہ ان کو بڑا رنج پہنچتا ہے کہ ایسا کیوں ہوا"۔صاحبزادی عصمت کی پیدائش اور بشیر یہ نوک جھوک جاری تھی کہ ۱۵ اپریل ۱۸۸۶ء کو صاحبزادی عصمت پیدا ہو گئیں جس پر اول کی وفات پر طوفان بے تمیزی ہندووں اور عیسائیوں کی طرف سے طوفان بے تمیزی برپا کیا گیا کہ پیشگوئی غلط نکلی لڑکے کی بجائے لڑکی پیدا ہوئی۔بحالیکہ حضرت مسیح موعود نے خدا تعالیٰ سے خبر پا کر صاف طور پر پسر موعود کے لئے نو سالہ میعاد مقرر فرمائی تھی اور اسے موجودہ حمل سے متعلق نہیں کیا تھا بلکہ اس کے بر عکس پہلے سے یہ بتا دیا تھا کہ ایک لڑکا قریب حمل میں پیدا ہونے والا ہے معلوم نہیں کہ وہی پسر موعود ہے یا وہ بعد کو اپنی مقررہ میعاد کے اندر پیدا ہو گا۔اور جیسا کہ حضور نے اس وقت لکھا کہ لڑکی کی پیدائش میں بھی بڑی حکمت اور مصلحت تھی۔کیونکہ اگر ابتدا ہی میں لڑکا پیدا ہو تا تو ایسے لوگوں پر کیا اثر پڑ سکتا تھا جو پہلے ہی کہتے تھے کہ قواعد طبی کی رو سے حمل موجودہ کی علامات سے ایک حکیم بھی بتا سکتا ہے کہ کیا پیدا ہو گا۔لیکن ابھی ہندؤوں اور عیسائیوں کے فتنے کا انتہائی مرحلہ باقی تھا۔سوا سال بعد اس خدائی خبر کے عین مطابق جو حضور نے ۸ - اپریل ۱۸۸۶ ء میں شائع فرما دی تھی۔۔اگست ۱۸۸۷ء کو بشیر اول کی پیدائش ہوئی اور خدا کا نشان پھر ظاہر ہوا۔بشیر اول ۴- نومبر ۱۸۸۸ء کو فوت ہو گئے۔اور مخالفین کو