تاریخ احمدیت (جلد 1)

by Other Authors

Page 283 of 725

تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 283

تاریخ احمدیت جلد ؟ ۲۸۲ سفر ہوشیار پور ہنگامہ آرائی کا موقعہ ہاتھ آگیا۔بالخصوص پنڈت لیکھرام جس نے صاحبزادی عصمت کی پیدائش پر سخت طنز و استہزاء کیا تھا بشیر اول کی وفات پر نہایت درجہ سخت کلامی پر اتر آیا۔" سبز اشتہار " کی اشاعت حضور نے پنڈت لیکھرام اور اسی قسم کے دوسرے معاندین کی غلط بیانیوں کا ازالہ کرنے کے لئے "سبز اشتہار " (مطبوعہ یکم دسمبر ۱۸۸۸ء) شائع کیا جس میں حضور نے چیلنج دیا کہ وہ ہمارے اشتہارات میں سے کوئی ایسا حرف پیش کر دکھا ئیں جس میں یہ دعوی کیا گیا ہو کہ مصلح موعود اور عمر پانے والا یہی لڑکا تھا جو فوت ہو گیا ہے آپ نے یہ بھی فرمایا کہ بشیر اول کی وفات سے ۲۰۔فروری ۱۸۸۶ء کی پیشگوئی کا وہ حصہ پورا ہوا ہے۔جس میں لکھا ہے کہ بعض بچے کم عمری میں بھی فوت ہوں گے۔حضرت اقدس نے پیشگوئی کے ایک لفظ "عمان" کی طرف اشارہ کر کے الہام الہی سے لکھا کہ اس پیشگوئی کی ابتدائی عبارت " مبارک وہ جو آسمان سے آتا ہے" کے فقرہ پر ختم ہوتی ہے اسی مہمان (بشیر اول) کے متعلق تھی اور اس میں در حقیقت دو لڑکوں کی پیشگوئی مخفی تھی اور مصلح موعود کے حق میں جو پیشگوئی ہے وہ اس عبارت سے شروع ہوتی ہے کہ اس کے ساتھ فضل ہے کہ جو اس کے آنے کے ساتھ آئے گا پس مصلح موعود کا نام الہامی عبارت میں فضل رکھا گیا اور نیز دو سرا نام اس کا محمود اور تیرا نام اس کا بشیر ثانی بھی ہے اور ایک الہام میں اس کا نام فضل عمر ظاہر کیا گیا ہے۔اور ضرور تھا کہ اس کا آنا معرض التواء میں رہتا جب تک یہ بشیر جو فوت ہو گیا ہے پیدا ہو کر پھر واپس اٹھایا جاتا کیونکہ یہ سب امور حکمت الیہ نے اس کے قدموں کے نیچے رکھے تھے۔اور بشیر اول جو فوت ہو گیا ہے بشیر ثانی کے لئے بطور ا رہاص تھا اس لئے دونوں کا ایک ہی پیشگوئی میں ذکر کیا گیا"۔" اس الهامی نشان کے ساتھ حضور نے پسر موعود کو خدائی الہام کے مطابق بشیر ثانی اور محمود اور مصلح موعود کے نام سے یاد کرتے ہوئے بڑی تحدی کے ساتھ لکھا دوسرا لڑکا جس کی نسبت الہام نے بیان کیا کہ دوسرا بشیر دیا جائے گا جس کا دوسرا نام محمود ہے وہ اگر چہ اب تک جو یکم دسمبر ۱۸۸۸ ء ہے پیدا نہیں ہو ا مگر خد اتعالیٰ کے وعدے کے موافق میعاد کے اندر ضرور پیدا ہو گا زمین و آسمان مل سکتے ہیں پر اس کے وعدوں کا ٹلنا ممکن ہیں ؟ et نیز فرمایا۔سواے وے لوگو! جنہوں نے ظلمت کو دیکھ لیا حیرانی میں مت پڑو۔بلکہ خوش ہو