تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 275
تاریخ احمدیت جلدا سفر ہو شیار پور اب چونکہ اس موعود کے ظہور کا زمانہ قریب آرہا تھا اس لئے خدا تعالی کی طرف سے اسلام کے مختلف با کمال بزرگوں کو بھی اطلاع دے دی گئی۔چنانچہ روم میں مولوی جلال الدین (۱۲۰۷- ۱۲۷۳) ہندوستان میں حضرت نعمت الله ن دلی ہانسوی ۱۶۵ اء اور شام میں حضرت محی الدین ابن عربی (۶۱۲۴۰-۱۱۶۴) نے کشفی آنکھ سے اس موعود کو دیکھا اور اپنے اپنے زمانہ میں اس کی خبر دیتے رہے بلکہ پانچویں صدی ہجری کے شامی بزرگ حضرت امام یحی بن عقب" نے تو کھلے لفظوں میں پیشگوئی فرمائی کہ و محمُودُ سَيَظْهَرُ بَعْدَ هَذَا وَ يَمْلِكُ الشَّامَ بِلا قِتَالِ : یعنی مسیح موعود اور ایک عربی انسل انسان کے بعد محمود ظاہر ہو گا جو ملک شام کو کسی (مادی) جنگ کے بغیر فتح کرے گا۔بعض ائمہ شیعہ کو بھی بتایا گیا کہ ایک آنے والے موعود کا اسم گرامی "محمود" ہو گا۔ہوشیار پور کا مبارک سفر ان قدیم نوشتوں کے جلد پورا کرنے کے لئے خود اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دل میں قادیان سے باہر چلہ کشی کرنے کی تحریک اٹھی اور آپ نے ۱۸۸۴ء میں سو جان پور کا فیصلہ کر کے اپنے عقید تمند منشی عبداللہ صاحب سنوری کو اپنی منشاء سے اطلاع بھی دے دی مگر حضور کو الہاما بتایا گیا کہ آپ کی عقدہ کشائی ہوشیار پور I میں ہو گی۔سو حضور پہلی میں بیٹھ کر دریائے بیاس کے راستے ۲۲۔جنوری ۱۸۸۶ء کو ہوشیار پور تشریف لے گئے اور چلہ کشی کے نتیجے میں مصلح موعود اور پردہ غیب میں پوشیدہ جماعت کے شاندار مستقبل کے متعلق بھاری بشارتیں پانے اور تبلیغ اسلام کی مہمات میں حصہ لینے کے بعد ۱۷۔مارچ ۱۸۸۶۳ء کو بانیل مرام واپس قادیان پہنچے۔حضرت منشی عبداللہ صاحب سنوری (جنہیں اس موقعہ پر ابتداء سے آخر تک ہمسفر رہنے کا شرف نصیب ہوا اس مبارک سفر کی روداد یوں بیان کرتے ہیں کہ حضرت صاحب نے ۱۸۸۴ء میں ارادہ فرمایا تھا کہ قادیان سے باہر جا کر کہیں چلہ کشی فرمائیں گے اور ہندوستان کی سیر بھی کریں گے۔چنانچہ آپ نے ارادہ فرمایا کہ سو جان پور ضلع گورداسپور میں جاکر خلوت میں رہیں اور اس کے متعلق حضور نے ایک اپنے ہاتھ کا لکھا ہوا پوسٹ کارڈ بھی مجھے روانہ فرمایا۔میں نے عرض کیا کہ مجھے بھی اس سفر اور ہندوستان کے سفر میں حضور ساتھ رکھیں۔حضور نے منظور فرما لیا۔مگر پھر حضور کو اس سفر سوجان پور کے متعلق الہام ہوا کہ تمہاری عقدہ کشائی ہو شیار پور میں ہوگی۔چنانچہ آپ نے سو جان پور جانے کا ارادہ ترک کر دیا۔اور ہوشیار پور جانے کا ارادہ کر لیا۔جب آپ ماہ جنوری ۱۸۸۶ء میں