تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 274
تاریخ احمدیت۔جلدا ۲۷۳ سفر ہوشیار پور وو ماموریت کا پانچواں سال ہوشیار پور کا مبارک سفر پسر موعود " کے متعلق عظیم الشان پیشگوئی کا انکشاف (۱۸۸۲ء) گذشتہ نوشتوں میں پسر موعود کی پیشگوئی اب ہم ۱۸۸۶ء میں قدم رکھ رہے ہیں جو تاریخ احمدیت میں ایک نہایت درجہ امتیازی حیثیت رکھتا ہے کیونکہ اس میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو دین اسلام کے شرف اور آنحضرت ا کی صداقت و عظمت کے اظہار کے لئے ایک " پسر موعود " کی عظیم الشان خبر دی گئی گو یہ پیشگوئی اپنی تفصیلات کے اعتبار سے پہلی دفعہ حضرت مسیح موعود پر منکشف ہوئی مگر اپنی اصولی شکل میں وہ ہزاروں برس سے موجود تھی۔چنانچہ مذہبی تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ ابتداء بنی اسرائیل کے سامنے یہ منادی کی گئی تھی کہ مسیح موعود کے انتقال کے بعد اس کا فرزند اور پوتا اس کی (آسمانی) بادشاہت کا وارث ہو گا۔بعد ازاں جب نعمت نبوت بنی اسمعیل کی طرف منتقل ہوئی تو پیغمبر دو عالم ﷺ نے مسیح موعود کے متعلق یہ خبردی - يَتَزَ و حريولد له " یعنی وہ شادی کرے گا اور اس کی اولاد ہو گی۔اب صاف ظاہر ہے کہ محض شادی اور اولاد کا وجود تو کسی مامور اللی کی سچائی پر برہان نہیں بن سکتا۔جب تک وہ اپنے اندر بھاری نشان نہ رکھتے ہوں۔پس بے شبہ مخبر صادق کا مقصود یہ تھا که مسیح موعود ایک موعود شادی کریگا جو ایک زبر دست آیت اللہ ہوگی جس کے نتیجے میں اسے ایک بلند مقام رکھنے والا صالح فرزند عطا کیا جائیگا جو اس کے روحانی کمالات کا نظیرو مثیل ہو گا اور جانشین بھی ! وہ ہر امر میں اس کا مطیع ہو گا۔اس کا شمار درگاہ الہی کے معزز بندوں میں ہو گا اور وہ دین اسلام کی حمایت کرے گا۔