تاریخ احمدیت (جلد 1)

by Other Authors

Page 10 of 725

تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 10

تاریخ احمدیت۔جلدا ۱۰ سلسلہ احمدیہ کا تعارف کرتے ہیں ملکوں میں پھیلے گی۔اس دن نہ کوئی مصنوعی کفارہ باقی رہے گا اور نہ کوئی مصنوعی خدا۔اور خدا کا ایک ہی ہاتھ کفر کی سب تدبیروں کو باطل کر دے گا۔لیکن نہ کسی تلوار سے اور نہ کسی بندوق سے۔بلکہ مستعد روحوں کو روشنی عطا کرنے سے اور پاک دلوں پر ایک نو را تارنے سے۔تب یہ باتیں جو میں کہتا ہوں سمجھ میں آئیں گی"۔سید نا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر الہاما یہ بھی انکشاف فرمایا گیا کہ اسلام کا یہ عالمگیر غلبہ تین سو سال میں مقدر ہے۔حضور اقدس کے خلاف اشتعال انگیزی کے خطرناک طوفان اٹھائے گئے بلکہ انگریزی حکومت سے یہاں تک کہا گیا کہ : گورنمنٹ کو اس کا اعتبار کرنا مناسب نہیں۔۔۔ورنہ اس مہدی قادیانی سے اس قدر نقصان پہنچنے کا احتمال ہے جو مہدی سوڈانی سے نہیں پہنچا " مگر حضور نے اس آتشیں فضا میں بھی ڈنکے کی چوٹ یہ اعلان فرمایا کہ خدا تعالیٰ میرے ذریعہ سے اسلام کی عالمگیر حکومت قائم فرمانا چاہتا ہے اور اس نے مجھے وہ بادشاہ بھی دکھائے ہیں جو میرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے اور اسلام کی عظمتوں کا نشان بنیں گے - نظام کفر میں نظام حق کا یہ نعرہ اولو العزمی جانبازی اور اسلامی حمیت و غیرت کا اتنا شاندار مظاہرہ ہے کہ مسلمانوں کا وہ اہل قلم طبقہ جسے احمدیت سے دور کا تعلق بھی نہیں ہے اس کی جلالت شان کا اعتراف کئے بغیر نہیں رہ سکا۔چنانچہ لکھا ہے: مرزا صاحب نے تقدس کی دکان ابتداء محض شکم پروری کے لئے کھولی تھی۔لیکن ترقی کر کے سلطنت پر فائز ہونے کا لائحہ عمل بھی شروع سے ان کے پیش نظر تھا اورانہیں آغاز کار سے اس مطلب کے الہام بھی ہوا کرتے تھے چنانچہ۔۔۔مرزا صاحب کا پہلا الهام جو ۱۸۶۸ ء یا ۱۸۶۹ ء میں ہوا یہ تھا کہ بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے۔۔۔خود مرزا صاحب نے نہ صرف اس الہام کا بڑے طمطراق سے براہین میں تذکرہ فرمایا بلکہ عالم کشف میں وہ بادشاہ بھی مرزا صاحب کی "مقدس بارگاہ" میں پیش کر دیئے گئے جو ان کے بیان کے بموجب ان کے پیرو ہونے والے تھے۔گو بادشاہوں کی متابعت کا کشف یا خواب کبھی پورا نہ ہوا، لیکن اس سے کم سے کم قادیانی صاحب کی ذہنی کیفیت ان کے خیالات کی بلند پروازی اور ان کی اولوالعزمی کا ضرور پتہ چلتا ہے اور اس سے یہ بھی متبادر ہوتا ہے کہ قیام سلطنت کے اصل داعی و محرک مرزا صاحب ہی تھے۔آخر کیوں نہ ہو تا قوم کے مغل تھے اور رگوں میں تیموری خون دوڑ رہا تھا۔میرے خیال میں مرزا صاحب نے قیام سلطنت کی جن آرزوؤں کو اپنے دل میں پرورش کیا تھا وہ قابل صد ہزار تحسین تھیں"۔