تاریخ احمدیت (جلد 1)

by Other Authors

Page 245 of 725

تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 245

تاریخ احمدیت۔جلدا ۲۴۴ ایک نہایت مبارک اور مقدس خاندان کی بنیاد فیصلہ کر لیا کہ اسی نیک مرد سے میں اپنی دختر نیک اختر کا رشتہ کروں گا۔تاہم انہوں نے اس ڈر کی وجہ سے کہ مبادا انکی اہلیہ صاحبہ انکار کر دیں اس خط کا مضمون اپنے تک محدود رکھا اور ان سے ذکر تک نہیں کیا۔دل کی بات دل ہی میں رہ گئی۔اس کے بعد حضرت میر صاحب ملازمت کے سلسلہ میں ضلع لاہور سے منتقل ہو کر چند ماہ کے لئے پٹیالہ اور مالیر کوٹلہ میں قیام فرماتے ہوئے ملتان گئے اور پھر ملتان سے رخصت پر اپنے وطن دلی جاپہنچے اس عرصہ میں کئی جگہ سے رشتہ کے پیغام آتے رہے اور سلسلہ جنبانی ہو رہا تھا۔لیکن خدا کی شان خود ان کی اہلیہ محترمہ یعنی حضرت نانی اماں سید بیگم صاحبہ کی کسی جگہ تسلی نہیں ہوئی۔حالانکہ پیغام دینے والوں میں بعض بڑے اچھے اچھے آسودہ حال بھی تھے اور بہت اصرار کے ساتھ درخواست کرتے تھے حضرت نانی اماں کے بیان کے مطابق اس دوران میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا نام بھی زیر تجویز آیا لیکن وہ عمر کے تفاوت اور خصوصاً پنجاب والوں کے خلاف دہلوی تعصب کی وجہ سے یہاں بھی مطمئن نہ ہو سکیں۔مگر اب جو حضرت میر صاحب دلی آئے تو اللہ تعالٰی نے ان کے دلی ارادے کی تکمیل کے لئے خود ہی حضرت نانی اماں کا شرح صدر کر دیا۔ایک دن نانی اماں سے رشتہ کی بابت تذکرہ جاری تھا کہ حضرت میر صاحب نے ایک لدھیانہ کے باشندہ سے متعلق کہا کہ اس کی طرف سے بہت اصرار سے درخواست ہے اور ہے بھی وہ اچھا آدمی۔اسے رشتہ دے دو۔انہوں نے اس کی ذات وغیرہ دریافت کی۔تو انہوں نے صاف انکار کر دیا۔جس پر حضرت میر صاحب نے خفگی کے لہجے میں کہا لڑکی اٹھارہ سال کی ہو گئی ہے کیا ساری عمر ا سے یونہی بٹھا چھوڑو گی ؟ حضرت نانی اماں نے جواب دیا کہ " ان لوگوں سے تو پھر غلام احمد ہی ہزار درجہ اچھا ہے"۔حضرت میر صاحب نے جو اس سنہری موقع کے بے تابی سے منتظر تھے جھٹ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا خط نکال کران کے سامنے رکھ دیا اور کہا کہ لو پھر مرزا غلام احمد کا بھی خط آیا ہوا ہے جو کچھ ہو ہمیں اب جلد فیصلہ کرنا چاہیے "۔حضرت نانی اماں نے کہا کہ "اچھا پھر غلام احمد کو لکھ دو۔چنانچہ حضرت میر صاحب نے اس وقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو خط لکھ دیا اور نکاح کا دن (حضرت ام المومنین کی روایات کے مطابق) ۲۶ - محرم ۱۳۰۲ھ مقرر کر دیا۔جسے حضرت مسیح موعود کے ایماء پر ۲۷- محرم ۱۳۰۲ھ بروز سوموار ( مطابق ۱۷ نومبر ۱۸۸۴ء) کر دیا گیا۔تاریخ طے پاگئی تو آسمانی دولها یعنی حضرت مسیح موعود کی برات دلی میں اور واپسی حضرت مسیح موعود علیہ السلام ولی جانے کے لئے حافظ حامد علی صاحب اور لالہ ملا وامل صاحب کی معیت میں لدھیانہ سٹیشن پر دارد ہوئے۔جہاں لدھیانہ کے مخلصین حضرت صوفی احمد جان صاحب اور ان کے فرزند صاحبزادہ پیر