تاریخ احمدیت (جلد 1)

by Other Authors

Page 246 of 725

تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 246

تاریخ احمدیت جلدا ۲۴۵ ایک نہایت مبارک اور مقدس خاندان کی بنیاد منظور محمد صاحب اور صاحبزادہ پیر افتخار احمد صاحب ، میر عباس علی صاحب اور دوسرے حضرات موجود تھے حضرت صوفی صاحب نے ایک تھیلی جس میں کچھ رقم تھی آپ کی نذر کی۔حضرت اقدس نے یہاں میر عباس علی صاحب سے برات میں شمولیت کی خواہش ظاہر فرمائی مگر انہوں نے خرابی صحت کا عذر کر کے معذرت کر دی۔اور آپ دو خدام کی مختصری برات لے کر دلی پہنچے۔خواجہ میر درد کی مسجد میں عصر و مغرب کے درمیان مولوی سید نذیر حسین صاحب دہلوی نے گیارہ سو روپیہ مہر پر نکاح پڑھا جو ضعف اور بڑھاپے کی وجہ سے چل پھر نہیں سکتے تھے۔اور ڈولی میں بیٹھ کر آئے تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس موقعہ پر مولوی صاحب کو ایک مصلیٰ اور پانچ روپے بطور ہدیہ دیتے حضرت میر صاحب نے رشتہ کا معاملہ اپنے خاندان بلکہ اپنی والدہ ماجدہ وغیرہ سے بھی مخفی رکھا تھا۔حضرت پہنچے تو انہیں بھی خبر ہو گئی اور وہ بھڑک اٹھے کہ ایک بوڑھے شخص اور پھر پنجابی کو رشتہ دے دیا ہے۔اور کئی افراد خاندان تو اسی غصہ اور ناراضی میں نکاح میں شامل نہیں ہوئے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے نکاح کے اخراجات کے لئے منشی عبد الحق صاحب اکو ٹسٹ سے پانچ سو روپیہ بطور قرض لے لیا تھا (جسے انہوں نے بعد میں " سراج منیر" کی اشاعت کی مد میں دے دیا) اور دو تین سو کی رقم حکیم محمد شریف صاحب کلانوری نے پیش کر دی تھی۔شادی بیاہ کے ملکی دستور کے مطابق حضور کو دلہن کے لئے قیمتی زیور اور پار چات ضرور لے جانا چاہیے تھے مگر حضرت اپنے دینی منصب کے لحاظ سے یہ تقریب اسلامی تمدن و معاشرت کی روشنی میں نہایت سادہ اور پر وقار طریق پر انجام دینا چاہتے تھے اس لئے رسم و رواج کی پابندیوں سے عجیب شان بے نیازی دکھاتے ہوئے آپ اس موقعہ پر کوئی کپڑا اور زیور ساتھ نہیں لے گئے تھے صرف ڈھائی سو روپیہ کی رقم حضرت میر صاحب کے حوالے کی کہ جو چاہیں بنوالیں۔حضرت میر صاحب کی برادری نے اس طرز عمل پر سخت لے دے کی۔کہ اچھا نکاح ہوا کہ کوئی زیور کپڑا ساتھ نہیں آیا۔انہیں جواب دیا گیا کہ مرزا صاحب کے اپنے رشتہ داروں کے ساتھ زیادہ تعلقات نہیں ہیں اور گھر کی عورتیں ان کی مخالف ہیں اور پھر وہ جلدی میں آئے ہیں اس حالت میں وہ زیور کپڑا کہاں سے بنوا لاتے ؟ مگر بعض برادری والے سختی پر اتر آئے اور بعض دانت پیس کر رہ گئے۔بہر حال اس ماحول میں نکاح کے بعد رخصتانہ کی تقریب عمل میں آئی۔جس میں تکلف یا رسم و رواج نام کو بھی نہیں تھا۔جہیز کو صندوق میں بند کر کے کنجی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو دے دی گئی اور حضور دوسرے دن حضرت سیدۃ النساء ام المومنین نصرت جہاں بیگم کو ساتھ لے کر دلی سے روانہ ہوئے اور قادیان تشریف لے آئے۔نئی دلہن کی سسرال میں پہلی آمد پر خوشی اور طرب کے بڑے بڑے جشن منعقد کئے جاتے ہیں مگر