تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 244
تاریخ احمدیت۔جلدا ۳۳۳ ایک نہایت مبارک اور مقدس خاندان کی بنیاد پر ایسے موانع تھے۔کہ آپ کو ازدواجی زندگی میں قدم رکھنے کی جرات نہیں ہو سکتی تھی لیکن چونکہ خدائی منشاء میں نکاح ثانی کا ہونا ضروری تھا اس لئے خدا تعالیٰ نے (غالبا ۱۸۸۱ء میں آپ کو نئی شادی کی تحریک فرمائی اور یہ خوشخبری بھی دی کہ تمہیں تشویش کی قطعا ضرورت نہیں۔شادی کا سب سامان ہم اپنے دست قدرت سے کریں گے۔چنانچہ آپ کو الہام ہوا۔ہر چہ باید تو عروس رایمان سامان کنم وان چه مطلوب شما باشد عطائے آں کنم یعنی جو کچھ دلہن کے لئے فراہم ہونا چاہیے وہ میں فراہم کرونگا اور تمہاری ہر ایک ضرورت پوری کروں گا۔اس خدائی بشارت کے تین سال بعد نومبر ۱۸۸۴ء میں خواہبہ محمد ناصر رحمتہ اللہ علیہ کے خاندان میں حضرت میر ناصر نواب صاحب دہلوی کے ہاں آپ کی دوسری شادی ہوئی اور ان کی دختر نیک اختر نصرت جہاں بیگم خدیجہ بن کر آپ کے حرم میں داخل ہو ئیں اور لاکھوں مومنوں کی روحانی ماں ہونے کی وجہ سے ام المومنین " کا ابدی خطاب پایا۔حضرت اقدس کی دوسری شادی کا یہ خدائی سامان اس طرح ہوا کہ حضرت میر ناصر نواب صاحب ۱۸۷۶ء سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ارادت مندوں میں شامل اور آپ کی خدا نما شخصیت کے مداح تھے۔جب " براہین احمدیہ " شائع ہوئی تو انہوں نے بھی اس کا ایک نسخہ خریدا اور پھر جذبات عقیدت میں چند امور کے لئے حضرت سے دعا منگوانے کے لئے خط لکھا جن میں سے ایک امر یہ بھی تھا کہ دعا کریں مجھے خدا تعالیٰ نیک اور صالح داماد عطا فرمائے۔اس وقت چونکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نئے رشتہ کی تحریک ہو چکی تھی اور یہ بھی بتایا جا چکا تھا کہ رشتہ دلی کے عالی نسب سادات خاندان میں مقدر ہے اس لئے جب حضرت میر صاحب کا یہ خط پہنچا تو حضور نے خداداد فراست سے درخواست دعا کو خدائی اشارہ پاکر انہیں جواب دیا۔کہ میرا تعلق اپنی بیوی سے عملاً منقطع ہے اور میں اور نکاح کرنا چاہتا ہوں مجھے اللہ تعالیٰ نے الہام فرمایا ہے کہ جیسا تمہارا اعمدہ خاندان ہے ایسا ہی تم کو سادات کے معزز خاندان میں سے زوجہ عطا کروں گا تمہیں کچھ تکلیف نہ ہوگی۔نیز یہ بھی لکھا کہ تا تصفیہ اس امر کو مخفی رکھیں اور رد کرنے میں جلدی نہ کریں۔حضرت میر صاحب جو ہمیشہ اللہ تعالیٰ سے دعا مانگا کرتے تھے کہ انہیں کوئی نیک اور صالح داماد عطا ہو یہ جواب پڑھ کر گرے فکر میں پڑ گئے اور کچھ تامل کیا کیونکہ اول تو ان کی بیٹی ۱۸/۱۷ سال کی تھیں اور حضرت کی عمر پچاس سال کے لگ بھگ تھی۔دوسرے پہلی بیوی اور دو بچے بھی موجود تھے۔خاندان بھی دوسرا تھا او ر تمدنی ماحول کی پیچید گہاں الگ نظر آ رہی تھیں بایں ہمہ خدا نے یہ تصرف کیا کہ حضرت کی نیکی اور نیک مزاجی پر نظر کر کے انہوں نے اپنے دل میں یہ پختہ