تاریخ احمدیت (جلد 1)

by Other Authors

Page 233 of 725

تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 233

تاریخ احمدیت جلدا حضرت اقدس کا پہلا سفر لدھیانہ ارادت کہ جو لغزش اور ابتلاء کے مقابلہ پر کچھ ٹھر سکے۔لاکھوں میں کسی ایک کو ہوتا ہے "۔اس سلسلہ میں انہیں اپنا ایک رویا بھی لکھا جس میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو میر عباس علی صاحب کی باطنی کیفیت کے متعلق یہ نظارہ دکھایا گیا تھا۔کہ آپ ایک مکان میں ہیں اور بعض نئے نئے آدمی آپ سے ملنے آئے ہیں اور میر عباس علی صاحب بھی ان کے ساتھ ہیں اور یہ سب حضور سے بیزار ہو کر ایک دوسرے مکان میں جابیٹھے حضور ان لوگوں میں جن میں شاید میر صاحب بھی ہیں امامت کی غرض سے تشریف لے گئے لیکن پھر بھی انہوں نے بیزاری سے کہا کہ ہم نماز پڑھ چکے ہیں تب حضور نے ان سے کنارہ کش ہو کر باہر نکلنے کے لئے قدم اٹھایا معلوم ہوا کہ ان سب میں سے ایک شخص پیچھے چلا آتا ہے جب نظر اٹھا کر دیکھا تو میر صاحب تھے اس غیبی اطلاع پر تھوڑا عرصہ ہی گزرا تھا کہ آپ کو خدا تعالیٰ کی طرف سے اجازت عطا کر دی گئی تو آپ نے میر عباس علی صاحب کو جو انہی دنوں حضور کی خدمت میں قادیان آئے ہوئے تھے یہ ہدایت فرمائی کہ لدھیانہ میں آپ کے لئے کوئی ایسی قیام گاہ تجویز کی جائے جس میں تخلیہ اور ملاقات کے لئے الگ الگ کمرے ہوں اور ان میں مختصر ضروری سامان بھی موجود ہو۔میر صاحب حضرت کا فرمان سن کر خوشی خوشی لدھیانہ پہنچے اور حضور کے استقبال کے لئے تیاریاں ہونے لگیں۔لدھیانہ میں حضرت صوفی احمد جان صاحب کے مریدوں کا ایک جال بچھا ہوا تھا انہیں آپ نے حضرت اقدس کی تشریف آوری کی خصوصی اطلاع دیتے ہوئے ہدایت کی کہ وہ کثیر تعداد میں اسٹیشن پر حاضر ہوں۔محلہ صوفیاں میں جہاں میر عباس علی صاحب سکونت رکھتے تھے انہیں کے اعزہ واقارب سے ایک دوست ڈپٹی امیر علی صاحب تھے جن کا مکان حضرت کی فرودگاہ کے لئے بہت موزوں تھا۔مکان کی چابی ڈپٹی صاحب کے چچا میر نظام الدین صاحب کے پاس تھی جب انہیں بتایا گیا کہ اس مکان پر حضرت اقدس کے قیام فرمانے کی تجویز ہے تو انہوں نے بخوشی چابی دے دی۔انہیں کہا گیا کہ وہ مکان میں سے تکلفات کا سامان اٹھا لیں کیونکہ علہی محفل ہے اس میں غریب و امیر آئیں گے۔ہم یہاں چٹائیاں بچھا دیں گے مگر انہوں نے جواب دیا کہ میرے سامان کو قدم بوسی کی برکت نصیب ہو گی اسے نہیں رہنے دیا جائے ہم اسے اپنے ساتھ تھوڑا ہی لے جائیں گے حضرت صوفی احمد جان صاحب نے اپنی فراست کی بناء پر اپنے مریدوں کو پہلے سے کہہ رکھا تھا کہ احادیث میں اس زمانہ کے مامور کا حلیہ موجود ہے اس لئے اگر چہ میں نے حضرت کی پہلے کبھی زیارت نہیں کی میں آپ کو از خود پہچان لونگا۔غرضکہ اہل لدھیانہ حضرت لدھیانہ میں تشریف آوری اور بے مثال استقبال اقدس کی تشریف آوری کے