تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 232
تاریخ احمدیت۔جلدا ۴۳۱ حضرت اقدس کا پہلا سفر لدھیانہ ماموریت کا تیسرا سال حضرت اقدس کا پہلا سفر لدھیانہ (۱۸۸۴ء) مدھیانہ کے عقیدت مندوں کا اصرار بر امین احمد میہ کی اشاعت نے یوں تو ملک بھر میں ایک تہلکہ مچا دیا تھا مگر لدھیانہ کو یہ خصوصیت حاصل تھی کہ یہاں حضرت اقدس کے عقیدت مندوں کی ایک جماعت قائم ہو گئی تھی جس میں حضرت صوفی احمد جان صاحب قاضی خواجہ علی صاحب نواب علی محمد صاحب آف مھجر مولوی عبد القادر صاحب شہزادہ عبد المجید صاحب میر عباس علی صاحب وغیرہ بہت سے نفوس شامل تھے۔یہ بزرگ آپ کے حلقہ ارادت میں آنے کے بعد ہزار جان سے چاہتے تھے کہ حضرت اقدس ان کے ہاں لدھیانہ تشریف لائیں اور اس غرض سے ان کی طرف سے ۱۸۸۲ء میں باصرار درخواست بھی حضور انور کی خدمت میں پہنچی اور حضور نے اسے از راہ شفقت منظور فرماتے ہوئے وعدہ بھی کر لیا۔لیکن حالات کچھ ایسے پیدا ہو گئے کہ مختلف اوقات میں عزم سفر کرنے کے باوجود اس سال وہاں جانے کی نوبت نہ آسکی۔۱۸۸۴ء کے آغاز میں لدھیانہ کے دوستوں نے ایک دفعہ پھر میر عباس علی صاحب کے ذریعہ سے (جو ان دنوں لدھیانہ میں گویا حضرت اقدس کے نمائندے تھے اور جن کے متعلق حضرت اقدس نے یہاں تک حکم دے رکھا تھا کہ لدھیانہ سے جو دوست حضور کی ملاقات کے لئے آئیں پہلے ان سے مل کر آئیں تا تسلی رہے) بار بار اپنی اس دلی تمنا کا اظہار کیا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام چونکہ اذن الہی کے بغیر کوئی قدم اٹھانا معصیت خیال کرتے تھے اس لئے آپ نے میر عباس علی صاحب کو ۱۸ جنوری ۱۸۸۴ء کو تحریر فرمایا کہ "کچھ خداوند کریم ہی کی طرف اسباب آپڑتے ہیں کہ رک جاتا ہوں۔نہیں معلوم حضرت احدیت کی کیا مرضی ہے عاجز بندہ بغیر اس کی مشیت کے قدم اٹھا نہیں سکتا"۔نیز لکھا کہ "لوگوں کے شوق اور ارادت پر آپ خوش نہ ہوں حقیقی شوق اور