تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 223
تاریخ احمدیت۔جلدا ۲۲۲ مسجد مبارک کی تعمیر تختہ دار پر لشکار یے جائیں یا کالے پانی بھیج دیئے جائیں۔حتی کہ خود مولوی ابو سعید محمد حسین صاحب بٹالوی کو نواب صاحب کے دفاع میں ایک مبسوط مضمون ” اشاعت السنہ" میں لکھنا پڑا۔اور گورنر ڈفرن اور سریپل گریفین کے حضور میں " نہایت عاجزی کے ساتھ التجا کرنا پڑی کہ وہ نواب صاحب موصوف کے متعلق فیصلے پر نظر ثانی کرتے ہوئے ان کا خطاب بحال فرما ئیں۔وہ گورنمنٹ کے حقیقی اور دلی خیر خواہ ہیں۔مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کا شمار حکومت انگریزی کے دلی خیر خواہوں اور حقیقی وفاداروں میں ہو تا تھا اور حکومت کی نگاہ میں ان کی شہادت بڑی وقیع اور پختہ سمجھی جاتی تھی۔لیکن ان کی یہ اپیل بالکل ناقابل التفات سمجھی گئی اور حکومت ٹس سے مس نہ ہوئی۔اسی لئے پنڈت رام نے مارچ ۱۸۸۶ء میں حضرت اقدس کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا تھا " آپ تو مقبولوں کے سرغنہ ہیں اور آپ کی دعا تو تقدیر معلق کو باسلوبی ٹال سکتی ہے۔صدیق حسن خاں معزول ہیں اور ان کی نسبت جو جو مقدمات اور غبن مال سرکاری دائر ہیں ان سے نہایت ملول ہیں۔۔۔۔جناب بیگم صاحبہ والی بھوپال صدیق حسن خاں معزول کو تین لاکھ دے کر خارج کرنا چاہتی ہیں ان کا ارادہ شیخ کیجئے"۔خدا کی شان پنڈت لیکھرام نے تو یہ بات طنزا کسی تھی مگر آپ ہی کی دعا کی برکت سے حالات میں تبدیلی واقع ہوئی جس کی تفصیل یہ ہے کہ جب معالمہ تشویشناک صورت اختیار کرتا دکھائی دیا تو خود نواب صاحب موصوف نے سر تا پا عجز و انکسار بن کر حضرت اقدس کی خدمت میں درخواست دعا لکھی اور مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی نے حضرت اقدس کی خدمت میں ان کی خدمات پیش کرتے اور دعا کی سفارش کا پیغام بھجواتے ہوئے حافظ محمد یوسف صاحب کو قادیان روانہ کیا۔حافظ صاحب کا بیان ہے کہ میں نے جب حاضر ہو کر حضور کی خدمت میں دعا کی درخواست پیش کی تو حضرت اقدس نے اولادعا کرنے سے انکار کر دیا اور براہین کا واقعہ بیان کر کے یہ بھی فرمایا کہ وہ خدا کی رضا پر گورنمنٹ کی رضا کو مقدم کرنا چاہتے تھے اب گورنمنٹ کو راضی کرلیں۔موحد ہونے کا دعوئی کر کے ایک زمینی حکومت کے خوف اور وہ بھی دین کے معاملہ میں جس میں خود اس حکومت نے ہر قسم کی آزادی دے رکھی ہے اس پر بہت دیر تک تقریر فرماتے رہے۔چونکہ مجھ پر مہربانی فرماتے تھے۔میں نے بھی پیچھا نہ چھوڑا عرض کرتا ہی رہا۔نواب صاحب کی طرف سے معذرت بھی کی آخر حضرت صاحب نے دعا کرنے کا وعدہ فرما لیا اور میں تو اسی غرض سے آیا تھا جب تک آپ نے دعانہ کر دی اور یہ نہ فرمایا کہ میں نے دعا کر دی ہے وہ تو بہ کریں خدا تعالیٰ تو بہ قبول کرنے والا ہے وہ رحم کرے گا حکومت کے اخذ سے وہ بچ جائیں گے۔خود حضرت اقدس علیہ السلام نے یہ واقعہ اس رنگ میں بیان فرمایا ہے کہ (نواب صاحب موصوف