تاریخ احمدیت (جلد 1)

by Other Authors

Page 222 of 725

تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 222

تاریخ احمدیت جلدا ا میرا ۲۲۱ نواب صدیق حسن خان صاحب کو سزا اور حضرت اقدس کی دعا سے خطابات کی بحالی مسجد مبارک کی تعمیر نواب صدیق حسن خاں صاحب کی طرف سے براہین احمدیہ " کی بے حرمتی اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بددعا کا جو دلخراش واقعہ صفحہ 188 پر میں بیان ہو چکا ہے وہ اسی زمانہ (۱۸۸۳ء) میں وقوع پذیر ہوا تھا۔نواب صاحب مولوی سید اولاد حسن صاحب قنوجی کے فرزند تھے انہوں نے علوم دینی علمائے بیمن وہند سے حاصل کئے۔پھر ریاست بھوپال کی ملازمت اختیار کرلی اور بتدریج ترقی کر کے وزارت و نیابت پر فائز ہو گئے یہاں تک کہ ان کا بھوپال کی والیہ شاہجہان بیگم صاحبہ سے ۱۸۷۱ء میں عقد ہو گیا جس کے بعد وہ عملاً ریاست کے فرمانروا بن گئے تھے۔اور حکومت برطانیہ نے انہیں "نواب والا جاہ "۔رالملک اور معتمد المهام" کے خطابات سے نواز دیا۔نواب صاحب اپنی شاہانہ ٹھاٹ باٹ اور علو مرتبت میں بھی اسلام کی تحریری خدمت سر انجام دے رہے تھے۔اور ان کی علمی تصانیف کا ہندوستان کے طول و عرض میں ایک شہرہ تھا۔اور مولوی ابو سعید محمد حسین صاحب بٹالوی تو انہیں مسجد دوقت تسلیم کرتے تھے۔حضرت مسیح موعود نے ان کی اس خصوصیت کی وجہ سے ان کی اسلامی خدمات پر حسن ظن کرتے ہوئے انہیں " براہین احمدیہ " بھجوائی تھی۔مگر انہوں نے یہ کتاب پھاڑ کر واپس کر دی اور لکھا کہ ”مذہبی کتابوں کی خریداری حکومت وقت کی سیاسی مصلحتوں کے خلاف ہے اس لئے ریاست سے کچھ امید نہ رکھیں"۔حضرت مسیح موعود نے کتاب کی یہ صورت دیکھی تو آپ کو بہت رنج ہوا اور آپ نے دعا کی کہ ان کی عزت چاک کر دی جائے۔خدا کی قدرت دیکھئے اس واقعہ پر ابھی دو تین سال کا عرصہ ہی ہوا تھا کہ ۱۸۸۶ء میں اسی حکومت نے (جس کی خوشنودی کے لئے انہوں نے براہین احمدیہ " کی توہین کی تھی) ان پر بعض مقدمات دائر کر دیے اور وہ جرائم پیشہ انسانوں کی طرح ریاست میں معصوموں کے خون بہانے سوڈانی مہدی کو امداد بھجوانے اور اپنی مختلف تصانیف میں انگریزی گورنمنٹ کے خلاف بغاوت کی آگ بھڑ کانے کے سنگین الزامات میں ماخوذ ہو گئے اور حکومت نے ان پر سر لیپل گریفین کا تحقیقاتی کمیشن بٹھا دیا کمیشن کے فیصلہ کے مطابق ان کے نوابی کے خطابات چھن گئے اور یہاں تک بے آبروئی ہوئی کہ خود مسلمانوں کے ایک طبقہ نے حکومت پر زور دیا کہ اس سیاسی مقدمہ میں ان سے ذرہ بھر رعایت روانہ رکھی جائے اور ان جرائم کی پاداش میں "