تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 221
تاریخ احمدیت۔جلدا ۲۲۰ مسجد مبارک کی تعمیر کی چھت پر دو سیڑھیوں کا ایک چوبی زینہ رکھا رہتا۔قیام جماعت احمدیہ کے بعد جب حضرت مولانا نور الدین صاحب ، حضرت مولانا عبد الکریم صاحب اور دوسرے بزرگان سلسلہ قادیان میں ہجرت کر کے آگئے تو اس کے غربی حصے پر شہ نشین بنا دیا گیا جہاں حضرت اقدس نماز مغرب کے بعد اپنے خدام میں رونق افروز ہوتے اور علم و عرفان کے موتی بکھیرتے تھے یہ پاک اور روح پرور محفل "دربار شام“ کے پیارے نام سے یاد کی جاتی تھی۔مسجد مبارک کی تعمیر کے بعد حضرت مسیح موعود مسجد اقصیٰ کی بجائے مسجد مبارک میں نماز ادا فرمانے لگے۔ابتداء میں اکثر خود ہی اذان دیتے اور خود ہی امامت کے فرائض سرانجام دیتے تھے۔مسجد کی توسیع مسجد مبارک کی یہ ابتدائی عمارت چوبیس سال تک اپنی پہلی حالت میں بدستور قائم رہی۔اس دوران میں صرف یہ خفیف سی تبدیلی کی گئی کہ سرخی کے نشان والا کمرہ جو دو ایک فٹ نشیب میں واقع تھا مسجد کی عام سطح کے برابر کر دیا گیا اور پھر۷ ۱۹۰ء میں حضرت میر ناصر نواب صاحب کی نگرانی میں جنوبی طرف پہلی مرتبہ توسیع کی گئی جس کے نتیجہ میں اس کے جنوب مغربی کونے کا مینار قائم نہ رہ سکا۔اور دو مینار شمالی دیوار میں جذب ہو گئے ایک مینار آج تک اصلی صورت میں موجود ہے۔مسجد مبارک کی دوسری مرتبہ توسیع خلافت ثانیہ کے عہد میں دسمبر ۱۹۴۴ء میں مکمل جوئی جس سے یہ مسجد ۱۹۰۷ء کی عمارت سے اپنی فراخی اور کشادگی میں دو چند ہو گئی۔اس مرتبہ تعمیر کی نگرانی کا کام حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب نے سرانجام دیا