تاریخ احمدیت (جلد 1)

by Other Authors

Page 220 of 725

تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 220

تاریخ احمدیت۔جلدا ۲۱۹ مسجد مبارک کی تعمیر مسجد کی تاسیس ہوئی دراصل کوئی موزون جگہ موجود نہیں تھی۔کیونکہ "بیت الفکر " کے عقب میں گئی تھی اور گلی کے ساتھ آپ کے چچا مرزا غلام محی الدین کا رقبہ تھا جس میں ان کے خراس کی قدیم عمارت کے کھنڈر پڑے ہوئے تھے اور اس کے بقیہ آثار میں سے شمالی جانب ایک بوسیدہ ہی دیوار کھڑی تھی۔حضور نے اس دیوار اور اپنے گھر کی جنوبی دیوار پر اپنے باغ کی دیسی لکڑی سے مسقف تیار کرایا۔اینٹوں کی فراہمی کے لئے بعض پرانی بنیادوں کی کھدائی کی گئی اور مسجد کی تعمیر آپ کے خاندانی معمار پیراں دتا نے شروع کر دی ۳۰ اگست ۱۸۸۳ء میں مسجد کی سیڑھیوں کے بننے کا مرحلہ آیا۔مسجد کا اندرونی حصہ حتمی طور پر ۹ - اکتوبر ۱۸۸۳ء تک ایک گونہ پایہ تکمیل تک پہنچ گیا لیکن اس کی سفیدی بعد کو ہوئی۔قدیم مسجد مبارک کا اندرونی منظر مسجد مبارک کی اندرونی عمارت کے تین حصے تھے پہلا اور غربی حصہ امام کا محرابی گوشہ تھا جس کے مغرب اور شمال میں دو کھڑکیاں اور شرقی دیوار میں ایک دروازہ تھا جو لکڑی کے تختے سے بند ہو کر دو ایک فرد کی خلوت نشینی کے لئے ایک نہایت مختصر مگر مستقل حجرہ بن جاتا تھا۔وسطی حصے میں چھ چھ نمازیوں کی دو صفوں کی گنجائش تھی۔اسی حصے میں "بیت الفکر " کو کھڑکی کھلتی تھی مقابل کی جنوبی دیوار میں ایک کھڑکی روشنی کے لئے نصب تھی اور باہر کے مشرقی حصہ سے الحاق کے لئے ایک دروازہ لگا دیا گیا تھا۔مسجد کا شرقی حصہ وسطی حصہ سے نسبتاً بڑا تھا یعنی اس میں بعض اوقات تین حصوں میں کم و بیش پندرہ آدمی نماز پڑھ سکتے تھے اس حصے سے باہر ایک طرف زینہ تھا اور دوسری طرف نمازیوں کے وضود غیرہ کے لئے جگہ اور ایک غسل خانہ بھی بنایا گیا۔جس میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام گرمیوں میں استراحت بھی فرماتے تھے اور اسی میں سرخی کے چھینٹوں کا نشان بھی ظاہر ہوا a - شرقی حصے میں تین دروازے تھے پہلا شمالی دیوار میں تھا جو حضرت اقدس کے مکان سے متصل تھا۔دوسرا ز ینے سے مسجد تک داخلہ کے لئے اور تیسرا غسل خانے کی جانب جاتا۔مسجد کے دونوں دروازوں پر آیت تان الدينَ عِنْدَ الله الاسلام"۔درود شریف اور مسجد کے متعلق الہامات درج تھے۔اس تفصیل کے مطابق (قدیم) مسجد مبارک کے اندرونی حصے کا خاکہ یہ تھا۔یہ تو مسجد کی اندرونی عمارت کا نقشہ تھا۔جہاں تک بالائی منزل کا تعلق ہے وہ مسجد کی بالائی منزل اس سے بھی سادہ اور مختصر تھی۔یعنی گوشہ امام والا حصہ چھوڑ کر باقی چھت کے چاروں کونوں پر چار چھوٹے چھوٹے مینار تھے اور وہاں پہنچنے کے لئے سرخی کے نشان والے کمرے