تاریخ احمدیت (جلد 1)

by Other Authors

Page 215 of 725

تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 215

تاریخ احمدیت۔جلدا خلعت ماموریت سے سرفرازی حواشی حیات النبی جلد اول نمبر دوم صفحه ۱۹۲ - " براہین احمدیہ حصہ سوم ( طبع اول) صفحه ۲۳۸-۲۴۲ حاشیه در حاشیه او آمینه کمالات اسلام صفحه ۵۵۰ - سوره صف : ۱۰ ( ترجمہ : وہ خدا ہی ہے جس نے اپنا رسول ہدایت اور دین حق دے کر بھیجا ہے تا اسے تمام ادیان پر غالب کر " براہین احمدیہ " جلد سوم ( طبع اول) صفحه ۲۴۳-۲۴۴ تحفہ گولڑویہ صفحہ ۲۶-۲۷ ( طبع اول) - سورة صف و سوره جمعه مشهور ترکی عالم موسیٰ جار اللہ لکھتے ہیں کہ " و معنى هذة الايه الكريمه الثالثه هو الذي بحث في الاميين رسولا و بعث في الاخرين دسلا من آخرين فكل امه لها رسول من نفسها و هولاء الرسل هم رسل الاسلام في الامم الكتاب فی حروف اوائل السور " شائع کردہ بیت الحکمہ مطبوعہ ۷ افروری ۱۹۴۲ء) یعنی اللہ تعالٰی نے جس طرح امیوں میں رسول مبعوث فرمایا اسی طرح آخرین میں بھی بھیجے گا۔اور یہ عہد اسلام کے رسول ہیں۔مسلم مصری جلد دوم صفحه ۵۱۶ ( حدیث نواس بن سمعان)۔بحار الانوار جلد ۱۳ صفحه ۲۰۲ باقر مجلسی) مطبوعه ایران ۵۱۳۰۲ الرحمة المهداة صفحه ۳۳۸ بحوالہ حلیہ مرتبہ مولانا سید نور الحسن قنوجی مطبوعہ ۱۳۰۱ھ " نشر الطیب ۱۲۶۳۳ از مولانا اشرف علی صاحب تھانوی ) شائع کرده تاج کمپنی و " ترجمان السنه " جلد اول ۱۳۲۴ از استاذ الحدیث مولانا بدر عالم صاحب رفیق ندوۃ المصنفین) ايضا " الخصائص الکبری حصہ اول صفحه ۱۳ از علامہ حضرت جلال الدین سید علی ) مطبوعہ حیدر آباد دکن ۵۱۳۱۹ -4 to " تریاق القلوب " طبع اول صفحه ۱۹ را آئینہ کمالات اسلام صفحه ۵۵۱ الحکم ۱۷- اگست ۱۸۹۹ء صفحہ ۷ کالم نمبر ۲ ۱۳ بدر - جون ۱۹۰۸ء صفحہ ۱۰ کالم نمبرا الوصیت صفحه الطبع اول مطبوعه ۲۲ دسمبر ۱۹۰۵ء "b ۱۴ (ترجمہ) اللہ تعالی صرف اپنے برگزید در سولوں کو ہی اپنے غیب پر غالب کرتا ہے ۱۵- الوصیت صفحہ 1 الطبع اول چشمه معرفت صفحه ۳۲۵ ۱۷ تخمه حقیقته الوحی صفحه ۶۸ ۱۸- " تجلیات الهیه " حاشیه صفحه ۹ ۱۹ براہین احمدیہ حصہ سوم ( طبع اول حاشیه در حاشیه صفحه ۲۶۱ د صفحه ۳۶۲) " ۲۰ براہین احمدیہ حصہ سوم حاشیہ نمبر صفحہ ۲۴۷ ۲۱- احکم ۱۳۰ اپریل ۱۹۰۲ء صفحه ۹ ۲۲ حافظ صاحب کا شمار ان اصحاب کبار میں ہے جنہیں ایک لیے عرصہ تک حضرت مسیح موعود کی خدمت کی توفیق ملی۔اور وہ سفرد حضر میں ہمیشہ اپنے آقا کے ہمرکاب رہے۔نماز پنجگانہ کی پابندی میں وہ اپنی مثال آپ تھے حضرت اقدس نے انکے اس جذبہ روحانی کی بڑی تعریف کی ہے اور انہیں متدین "" "متقی " اور " وفادار " کے لقب سے نوازا ہے (ازالہ اوہام صفحہ ۸۱۷۰۸۱۳ طبع اول) ان کو یہ عظیم خصوصیت بھی حاصل ہے کہ ان کی عظیم الشان خدمات کے باعث حضرت مسیح موعود نے بشارت دی تھی۔جو خدمت میری شیخ حامد علی صاحب نے کی ہے کسی دوسرے نے نہیں کی اور یہ میرے ساتھ ہمیشہ رہا ہے اور جنت میں بھی میرے ساتھ اسی طرح ہو گا "۔(الحکم مارچ ۱۹۳۴ء وفات ۸ ستمبر ۱۹۱۹ء)