تاریخ احمدیت (جلد 1)

by Other Authors

Page 214 of 725

تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 214

تاریخ احمدیت - جلدا ۲۱۳ خلعت ماموریت سے سرفرازی یہ ایک ذوقی بات تھی کہ میں نے مرزا صاحب کے سامنے اسے پیش کیا کہ کیوں وہ معاملہ پورا نہ ہوا ؟ اس پر آپ کھڑے ہو گئے اور میری طرف منہ کر کے ذیل کا شعر پڑھا۔من ذره از آفتابم هم از آفتاب گویم شم نه شب پرستم که حدیث خواب گویم پھر فرمایا کہ جس شخص نے آپ کو جگایا تھا اسی کے ہم معنی کوئی آیت قرآن کریم کی ہے اور وہ یہ ہے- لا يمسه الا المطهرون غرض یہ تو ایک پہلا بیج تھا جو میرے دل میں بویا گیا اور حضرت مرزا صاحب کی سادگی جواب اور وسعت اخلاق اور طرز ادا نے میرے دل پر ایک خاص اثر کیا۔حضرت مولانا ملاقات کرتے ہی واپس جموں تشریف لے گئے اور پھر دوبارہ حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ آپ کی راہ میں مجاہدہ کیا ہے؟ اس کے جواب میں حضرت اقدس نے فرمایا کہ مجاہدہ یہی ہے کہ عیسائیوں کے مقابل پر ایک کتاب لکھو۔آپ نے عرض کیا کہ بعض سوال اس قسم کے ہوتے ہیں جن میں الزامی جواب ہی دشمن کو خاموش کرتا ہے۔لہذا اگر ان کے بعض اعتراضات میں صرف الزامی جواب دیا جائے تو کیا آپ اس طریق کو پسند فرما ئیں گے۔فرمایا بڑی ہی بے انصافی ہو گی اگر ایک بات جسے انسان خود نہیں مانتا دو سرے کو منوانے کے واسطے تیار ہو۔ہاں اگر کوئی ایسا ہی مشکل سوال آپ کی راہ میں آجائے جس کا جواب ہر گز آپ کی سمجھ میں نہ آسکے تو مناسب طریق یہ ہے کہ آپ یہ سوال نہایت ہی خوشخط اور جلی قلم سے لکھ کر اپنی نشست گاہ کے سامنے جہاں ہمیشہ نظر پڑتی رہے لٹکا دیا کریں۔یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ آپ پر اپنے خاص فضل سے فیضان نازل فرمائے اور یہ عقدہ حل ہو جائے۔حضرت مولانا فرماتے تھے کہ اس طریق دعا کا میں پہلے ہی قائل تھا کہ مجھے اس کی مضبوط چٹان پر حضرت اقدس نے کھڑا کر دیا۔ان ابتدائی ملاقاتوں کے نتیجے میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے آپ کا با قاعدہ سلسلہ مراسلت قائم ہو گیا جو قادیان کی ہجرت تک جاری رہا اور پھر تو آپ نہیں کے ہو رہے۔