تاریخ احمدیت (جلد 1)

by Other Authors

Page 216 of 725

تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 216

PIA تاریخ احمدیت۔جلدا خلعت ماموریت سے سرفرازی ۲۳- نابینا تھے مگر بصیرت کی آنکھیں روشن تھیں بڑے عابد بڑے زاہد سقیم حالت کے باوجود حضرت مسیح موعود کی ہر تحریک میں حصہ لیتے تھے۔حضور کو دابنا آپ کا معمول تھا ان کی عمر چودہ پندرہ برس کی تھی کہ حضور انہیں اپنے یہاں بلا کر لے گئے اور فرمایا حافظ صاحب ہمارے پاس رہا کریں۔انہوں نے عرض کیا میں معذور ہوں مجھ سے کوئی کام نہیں ہو سکے گا۔حضرت نے جواب دیا۔کہ ہم اکٹھے نماز پڑھ لیا کریں گے اور تو قرآن شریف یاد کیا کر۔ایک لحاظ سے آپ " اصحاب الصفہ" کے پہلے فرد ہیں جنہیں آپ کے قدموں میں رہنے کی سعادت عطا ہوئی۔حضرت مسیح موعود کی وفات کی خبر پر انہیں یقین نہیں آتا تھا لیکن جب یقین ہوا تو کہنے لگے۔" میں آج یتیم ہو گیا ہوں"۔وفات ۱۲ جولائی ۱۹۱۹ء (ا حکم ۲۱ فروری تا مارچ ۱۹۳۴ء) ۲۳ تا ۲۶ قادیان سے چار میل کے فاصلہ پر جانب غرب سیکھواں نامی ایک گاؤں ہے۔یہ تینوں بزرگ قدیم ترین صحابی اور سگے بھائی اسی جگہ کے رہنے والے تھے۔حضرت اقدس کے ساتھ انہیں ایک فدائیا نہ تعلق تھا سلسلہ کے مشہور اور نامور عالم مولوی جلال الدین صاحب شمس سابق مبلغ بلاد عربیه و انگلستان میاں امام الدین صاحب کے فرزند ہیں اور مولوی قمر الدین صاحب فاضل میاں خیر الدین صاحب کے۔ان بزرگوں کی وفات علی الترتیب ۱۵۱۴ اگست ۱۹۲۲ء ۸- مئی ۱۹۳۱ ء اور ۱۷۔مارچ ۱۹۴۹ء کو ہوئی۔۲۷- احمد یہ نائیجریا مشن کے کامیاب مبلغ اور جانباز مجاہد حکیم فضل الرحمن صاحب رحمہ اللہ علیہ کے والد ماجد - آپ حافظ حامد علی صاحب کے رشتہ دار تھے۔فرمایا کرتے تھے کہ جب میں نے پہلی مرتبہ حضرت مسیح موعود کی زیارت کی تو اس کے بعد اس قدر عشق پیدا ہوا کہ حضور کے دیدار کے بغیر چین نہیں آتا تھا۔(الحکم ۷۔دسمبر ۱۹۳۴ء صفحه ۵) تاریخ وفات ۲۳ مارچ ۱۹۴۲ء ۲۸ آپ کے حضرت اقدس کی خدمت میں لانے کے محرک حافظ حامد علی صاحب تھے وہ جب قادیان آئے تو ابھی مسجد مبارک کی تعمیر کا آغاز نہیں ہو ا تھا ( الحکم ۲۸ مارچ ۱۹۳۴ء) آپ کا انتقال ۷ ۲دسمبر ۱۹۴۵ء کو ہوا۔۲۹- صاحب کشف و الہام تھے اور شعر گوئی میں ایک خاص ملکہ حاصل تھا جو آخر وقت تک تائید دین کے لئے وقف کئے رکھا۔ان کا مقام خلوص و اطاعت حضرت اقدس کے ان الفاظ سے ظاہر ہے کہ ان کا جوش سے بھرا ہوا اخلاص اور ان کی محبت صافی جس حد تک مجھے معلوم ہوتی ہے اس کا اندازہ نہیں کر سکتا" ازالہ اوہام صفحہ ۷۸۴ (وفات ۱۵- نومبر ۱۹۱۸ء) ۳۰ براہین احمدیہ حصہ سوم ( طبع اول) صفحه ۲۴۰ ۳۱۔ان کا سلسلہ نسب کنی واسطوں کے ساتھ صحیح کبیر حضرت فرید گنج شکر کے خلیفہ قطب الاقطاب شیخ جمال الدین احمد ہانسوی (متوفی ۶۵۹ھ) تک جا پہنچتا ہے۔بڑے مقتدر گدی نشین تھے۔اور انکی بڑی مارتا تھی لیکن جب حضرت مسیح موعود نے دعوئی ماموریت فرمایا تومسند امارت چھوڑ کر نا مور وقت کی غلامی اختیار کرلی۔حضرت اقدس نے انہیں اکابر مخلصین کا خطاب دیتے ہوئے لکھا ہے۔صافی باطن یک رنگ اور علمی کاموں میں جوش رکھنے والے اور اعلاء کلمہ حق کے لئے بدل و جان ساعی دسر گرم ہیں۔(ازالہ ارہام حصہ دوم صفحہ ۸۰۲) آپ نے حضور کے عہد مبارک کے چشم دید واقعات اپنی زندگی میں ہی " تذکرۃ المہدی " کے نام سے It شائع فرما دیئے تھے جو نہایت ایمان افروز ہیں۔۳۔جنوری ۱۹۳۵ء کو آپ کا وصال مبارک ہوا۔(احکم ۱۴ جنوری ۱۹۳۴ء) ۳۲۔نہایت بلند پایہ اور جلیل القدر صحابی تھے۔سرخ چھینٹوں کے کشفی نشان کے حامل براہین احمدیہ (حصہ چہارم) کی طباعت کے مخلص کارکن اور سفر ہوشیار پور میں حضرت کے دنادار خادم۔مرشد کامل کی تلاش میں تھے کہ اپنے ماموں مولوی محمد یوسف صاحب مرحوم سے حضرت کا ذکر سن کر قادیان پہنچے اور پہلی ملاقات میں ہی امیر محبت ہو گئے تین روز کے قیام کے بعد اجازت لے کر بٹالہ تک گئے اور پھر واپس آگئے حضور نے واپسی کا سبب پوچھا تو عرض کیا حضور میرا جانے کو دل نہیں چاہتا۔ریاست پٹیالہ کے قصبہ سٹور میں ۱۸۶۱ ء میں پیدا ہوئے اور ے اکتوبر۱۹۲۷ء کو اپنے مولائے حقیقی سے جاملے (الفضل ۱۴ تا ۲۵ اکتوبر۱۹۲۷ء- حیات احمد جلد دوم نمبر اول صفحه ۸۸-۸۹) حضرت اقدس مسیح موعود نے آپ کے متعلق لکھا ہے کہ " یہ جو ان صالح اپنی فطری مناسبت کی وجہ سے میری طرف کھینچا گیا میں یقین رکھتا ہوں کہ وہ ان وفادار دوستوں میں سے ہے جن پر کوئی ابتلاء جنبش نہیں لا سکتا"۔(ازالہ اوہام صفحه ۷۹۶) ۳۳۔آپ مدار ضلع جالندھر کے ایک معزز اور شریف خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ابتداء محکمہ پولیس میں ملازم ہوئے اور ترقی کر کے کورٹ انسپکٹر کے عہدہ تک پہنچے۔آپ شروع سے ایک بد نام محکمہ میں ہونے کے باوجود دینی شہرت رکھتے تھے براہین احمدیہ کے مطالعہ نے تو ان کی کایا ہی پلٹ دی اور وہ حضرت اقدس کے ارادتمندوں میں شامل ہو گئے اور پھر وہ مقام حاصل کیا کہ