تاریخ احمدیت (جلد 1)

by Other Authors

Page 209 of 725

تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 209

تاریخ احمدیت جلدا خلعت یا موریت سے سرفرازی مکان میں بھی ایک دالان تھا اور ایک دو مکان اور مختصر سے تھے اور ایک طرف کی عمارت خام تھی اور ایک گول کمرہ تھا جس کو تیار کر لیا جاتا تھا یعنی کچھ حصہ اس کا بن چکا تھا اور کچھ بن رہا تھا اور مسجد مبارک بھی اس وقت نا تمام تھی۔معمار مزدور لگ رہے تھے اور اب تو اس مکان میں بہت سے مکان عمارت پختہ عالی شان بن گئے ہیں۔آپ کے ہاں لوگوں کی آمدروفت بہت کم تھی یہاں تک کہ بعض دو دو چار چار یا دس دس کوس کے آدمی بھی آپ سے کم واقفیت رکھتے تھے۔مجھے خوب یاد ہے کہ اس وقت دو چار نمازی آپ کے ساتھ ہوتے تھے اکثر حضرت اقدس نماز پڑھایا کرتے تھے اور کبھی میں ایک ہی مقتدی ہو تا تھا اور آپ امام اور کبھی میں امام اور آپ مقتدی۔سیر کا بھی یہی حال تھا کہ کبھی ایک دو آدمی ساتھ ہوتے تھے اور کبھی آپ اکیلے ہی سیر کو تشریف لے جاتے تھے۔ایک دو ہندو اس زمانہ میں آیا کرتے تھے۔وہ ہندو آپ کے الہامات کو جو خداتعالی کی طرف سے ہوتے تھے لکھا کرتے تھے اور ہمیشہ آپ کی پیشگوئیوں کی تگ ودو میں لگے رہتے تھے کہ آیا یہ پیشگوئی پوری ہوئی یا نہیں"۔غرضیکہ اس وقت قادیان ایک ویرانے کا منظر پیش کر رہا تھا جس پر چاروں طرف نمار کی سی تاریکی اور خاموشی مسلط تھی اور ۱۸۸۰ء تک خود حضرت اقدس حد درجہ پردہ گمنامی میں تھے اور آپ کا حلقہ احباب نہایت محدود تھا۔اس زمانہ میں حضرت اقدس کی گمنام حالت کا مکمل نقشہ صرف شیعہ بزرگوں کے ان الفاظ میں کھینچا جا سکتا ہے جن میں کہا گیا تھا کہ امام قائم نمار سے ظاہر ہو گا آپ ان دنوں سچ سچ "صاحب الغار " تھے اور چند گنتی کے اصحاب کے سوا جن میں میاں جان محمد صاحب مولوی رحیم بخش صاحب تلونڈی، جھنگلاں، مرزا دین محمد صاحب، مرزا غلام اللہ صاحب مرزا اسمعیل بیگ صاحب حافظ حامد علی صاحب II حافظ معین الدین صاحب ، میاں جمال الدین سیکھوائی ، میاں امام الدین صاحب سیکھوانی ، میاں خیر الدین صاحب سیکھوانی ، حافظ نبی بخش صاحب فیض اللہ چک - حافظ نور محمد صاحب فیض اللہ چک 121 ، حضرت میر ناصر نواب صاحب - میر حامد شاہ صاحب - مولوی سید میر حسن صاحب (۱۸۴۴-۱۹۲۹) میر عباس علی صاحب اور مولوی ابو سعید محمد حسین صاحب بٹالوی (متوفی جنوری ۱۹۲۵ء) کا نام قابل ذکر ہے۔حضرت اقدس کے نام سے بھی کوئی متعارف نہیں تھا۔ان کے علاوہ آپ کے دلی محبوں میں حضرت مولوی عبد اللہ صاحب عزنوی بھی تھے مگر وہ اب داغ مفارقت دے کر اگلی دنیا میں جاچکے تھے۔لد یہ گویا ایک مختصر سا روحانی ہالہ یا دائرہ تھا جو سینتالیس برس میں خدا کے اس مقدس چاند کے ارگرد قائم ہو سکا۔۱۸۸۰ء میں آپ کی پہلی تصنیف (براہین احمدیہ) معرض ظہور میں آئی اور آپ کا نام ملک میں گونجنے لگا۔۱۸۸۲ء میں اللہ تعالی نے آپ کو یہ خبر دی کہ لوگ دور دور سے تیرے پاس آئینگے اور