تاریخ احمدیت (جلد 1)

by Other Authors

Page 208 of 725

تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 208

تاریخ احمدیت۔جلدا ۲۰۷ خلعت ماموریت سے سرفرازی ہوئے لیکھرام کے بھرے میں آنے سے صاف انکار کر دیا۔اور اس کی یہ خفیہ سازش پوری طرح ناکام ہو گئی۔قادیان کی گمنام حالت اور رجوع خلائق کا آغاز اس زمانہ میں قادیان ایک انتہائی بے رونق گاؤں تھا۔چنانچہ حضرت پیر سراج الحق صاحب نعمانی کی چشم دید شہادت ہے کہ جب آپ ۱۸۸۲ء میں قادیان گئے تو یہ بستی ویران پڑی تھی جس کے بازار خالی پڑے تھے اور بہت کم آدمی چلتے پھرتے نظر آتے تھے بعض دکانیں ٹوٹی پھوٹی اور بعض غیر آباد خالی پڑی تھیں اور دو تین یا کم و بیش دکانیں نون مرچ کی تھیں وہ بھی ایسی کہ اگر چار پانچ آنے کا مصالحہ خریدنے کا اتفاق ہو تو ان دکانوں سے بجز دو چار پیسہ کے نہیں مل سکتا تھا اور تھوڑی تھوڑی ضرورتوں کے واسطے بٹالہ جانا پڑتا تھا علی ہذا القیاس اور چیزوں کا بھی یہی حال تھا۔دودکان حلوائیوں کی بھی تھی لیکن ان کی بے رونقی اور کم مائیگی کا یہ حال تھا کہ شاید دو تین پیسہ کی ریوڑیاں گڑ کی جن سے دانتوں کے بھی ٹوٹنے کا احتمال ہو اگر کوئی خرید لے تو خریدے ورنہ اور مٹھائی کے لئے مصالحہ کی طرح بٹالہ ہی یاد آئے۔مجھے اب تک وہ دکان یاد ہے کہ جس میں کسی قدر نون مرچ اور کچھ تیل کے علاوہ دو چار تھان کپڑے کے بھی رکھے تھے ایک تھان گاڑھے اور ادھو تر کا جس کو پنجابی میں کھد رکھتے ہیں اور ایک دو تھان کھیل قند سرخ کے جس کو الو ان بھی کہتے ہیں اور شاید ایک دو تھان نکمی سی سوسی اور بھری کی چھینٹ کے بھی رکھے ہوئے تھے جن کو جٹیوں کے سوا اور کوئی خریدنے کا نام تک نہ لے۔اناج کی منڈی۔سبزی کی منڈی یا اور کسی قسم کے فواکہ اور میوے کا تو ذکر کیا گھی چاول دودھ کمیاب اور دیگر اشیاء ضروری مفقود - قصائی کی ایک دکان ایسی تھی کہ اگر قصاب کبھی شامت سے ایک بکرا ذبح کر لیتا تھا تو وہ بکرا اس کی جان کا وبال ہو جاتا تھا اگر گرمیوں کا موسم ہے تو گل سڑ کر خراب ہو گیا اور جو سردیاں ہو ئیں تو چار پانچ روز تک رکھ کر کچھ یہاں کچھ دیہات میں اناج کے بدلے بمشکل تمام بیچ کھوچ کر پورا کیا۔جس میں نفع نقصان برابر سرا بر جس طرف دیکھو کچے مکان اور بے مرمت مکان پڑے تھے۔ہاں حضرت اقدس و اکرم کا مکان پختہ تھا یا آپ کے بڑے بھائی کا لیکن وہ کچے مکانوں کی طرح مکان تھے۔جو بعض حصہ ان کا زمین روز تھا۔اندر کا پانی باہر جانا برسات میں دشوار تھا جس کا نمونہ اب تک موجود ہے کہ حضرت اقدس کے مکان کے ملحق مرزا غلام قادر صاحب مرحوم کا مکان ہے حضرت اقدس جس مکان میں جلوہ افروز تھے وہ ایک چھوٹا سا حجرہ تھا اور اب بھی ہے اس میں دس پندرہ آدمیوں کے سوا زیادہ نہیں آسکتے تھے اس حجرہ کا نام بیت الفکر ہے اس مجرے کے آگے ایک دالان تھا اور نیچے کے