تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 210
تاریخ احمدیت جلدا خلعت ماموریت سے سرفرازی تیری مدد کرنے والے وہ لوگ ہوں گے جن کو آسمانی تحریک ہوگی۔۔چنانچہ فی الواقعہ اس خدائی خبر - کے بعد ملک میں یکایک ایک جنبش پیدا ہوئی اور لوگ آہستہ آہستہ آپ کی زیارت کے لئے قادیان کی طرف کشاں کشاں آنے شروع ہو گئے اس سلسلہ میں (جدید تحقیق کے مطابق ابتداء آپ کی خدمت میں حاضر ہونے والے حضرت پیر سراج الحق صاحب نعمانی سرسادی اور حضرت منشی عبداللہ صاحب سنوری تھے جو ۱۸۸۲ ء میں حضور کے شرف زیارت سے فیضیاب ہوئے۔ان بزرگوں کے بعد ایک رو پیدا ہو گئی اور پھر آنے والوں میں روز بروز اضافہ ہونے لگا۔مثلاً ۱۸۸۴ء میں مدار ضلع جالندھر سے حضرت چودھری رستم علی خاں صاحب 22 اور حضرت سید ناصر شاہ صاحب ایسے مخلص شیدائی حضور کے قدموں میں آئے۔اسی سال منشی الہی بخش صاحب اکو شنٹ آئے۔منشی ro الہی بخش صاحب کے ہمراہ ان کے ساتھیوں میں منشی عبدالحق صاحب اکو شنٹ اور حافظ محمد یوسف صاحب امرتسری بھی جو حضرت مولانا عبد اللہ صاحب عزنوی کے مرید تھے اکثر حاضر ہوا کرتے تھے۔ریویو جنوری ۱۹۴۲ء صفحہ ۱۱) ۱۸۸۵ء میں حضرت مولانا نور الدین شاہی طبیب جیسی برگزیدہ ہستی جموں سے دیوانہ وار قادیان پہنچی۔اسی زمانہ میں مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری ( جو آئندہ آپ کے مخالفین کی صف اول میں شمار ہوئے) ۸/۱۷ سال کی عمر میں محض شوق زیارت میں بٹالہ سے پا پیادہ تنہا قادیان آئے۔۱۸۸۶ء میں حضرت منشی ظفر احمد صاحب رجسر ا ر ہائیکورٹ کپور تھلہ حضرت خان محمد خان صاحب افسر بگھی خانہ کپور تھلہ اور حضرت منشی محمد اروڑا خان صاحب تحصیل دار کپور تھلہ ایسے عشاق قدم بوسی کی سعادت کے لئے قادیان پہنچے۔اسی سال مولانا برہان الدین صاحب جھلمی بھی پہلی مرتبہ قادیان تشریف لائے لیکن حضور سے ملاقات ہوشیار پور میں ہوئی۔۱۸۸۷ء میں حضرت پیر افتخار احمد صاحب حضرت پیر منظور محمد صاحب ، پیر صاحب العلم کے دو مریدوں عبد اللطیف صاحب اور حاجی عبداللہ صاحب اور مشہور مسلم مشنری مولوی حسن علی صاحب کو قادیان میں شرف باریابی نصیب ہوا۔یہ تو زمانہ بیعت سے قبل رجوع خلائق کا نظارہ ہے زمانہ بیعت کے بعد جب دور مسیحیت کا آغاز ہوا تو ہندوستان کے گوشے گوشے سے اس کثرت سے لوگ آپ تک پہنچے کہ اپنے اور بیگانے دنگ رہ گئے۔-