تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 179
تاریخ احمدیت جلدا ICA ۱۴ براہین احمدیہ کی تصنیف و اشاعت کہ ہفتہ عشرہ میں پوری کتاب ختم کر کے دم لیا اور فرمایا " نہایت اعلیٰ درجہ کی کتاب ہے۔اور مجھے یقین ہے کہ اسکے مصنف کو یا تو لوگ پاگل کہیں گے یا اس سے اگلی صدی کا مجدد ہو گا "۔اسی طرح ان کے تو اسے اور ملک کے نامور شاعر ابو المعظم نواب سراج الدین احمد صاحب سائل نے اسے بڑی معر کے کی کتاب قرار دیا۔بعض مقامات مثلاً سرادہ میں براہین احمدیہ جب سنائی جاتی تھی تو سامعین ہے ساختہ کہتے تھے کہ اس کتاب کا مصنف بے بدل انشاء پرداز ہے۔مولانا ابو الحسن علی ندوی " براہین احمدیہ کی تصنیف و اشاعت کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں: یہ دور مذہبی مناظروں کا دور تھا اور اہل علم کے طبقہ میں سب سے بڑا زوق مقابلہ مذاہب اور مناظرہ فرق کا پایا جاتا تھا۔عیسائی پادری مذہب مسیحیت کی تبلیغ دعوت اور دین اسلام کی تردید میں سرگرم تھے۔حکومت وقت جس کا سرکاری مذہب مسیحیت تھا ان کی پشت پناہ اور سرپرست تھی۔وہ ہندوستان کو یسوع مسیح کا عطیہ اور انعام سمجھتی تھی۔دوسری طرف آریہ سماجی مبلغ جوش و خروش سے اسلام کی تردید کر رہے تھے انگریزوں کی مصلحت (جو ۱۸۵۷ء کی متحدہ کوشش اور ہندوستان کے اتحاد کی چوٹ کھا چکے تھے) یہ تھی کہ ان مناظرانہ سرگرمیوں کی ہمت افزائی کی جائے۔اس لئے کہ ان کے نتیجہ میں ملک میں ایک کشمکش اور ذہنی و اخلاقی انتشار پیدا ہو تا تھا اور تمام مذاہب اور فرقوں کو ایک ایسی طاقتور حکومت کا وجود غنیمت معلوم ہوتا تھا جو ان سب کی حفاظت کرے اور جس کے سایہ میں یہ سب امن وامان کے ساتھ مناظرہ و مباحثہ کرتے رہیں۔ایسے ماحول میں جو شخص اسلام کی مدافعت اور مذاہب غیر کی تردید کا علم بلند کرتا وہ مسلمانوں کا مرکز توجہ و عقیدت بن جاتا۔مرزا صاحب کی حوصلہ مند طبیعت اور دوربین نگاہ نے اس میدان کو اپنی سرگرمیوں کے لئے انتخاب کیا۔انہوں نے ایک بہت بڑی ضخیم کتاب کی تصنیف کا بیڑہ اٹھایا ہے جس میں اسلام کی صداقت ، قرآن کے اعجاز اور رسول اللہ ﷺ کی نبوت کو بدلائل عقلی ثابت کیا جائے گا اور بیک وقت مسیحیت، سناتن دھرم ، آریہ سماج اور برہمو سماج کی تردید ہوگی۔انہوں نے اس کتاب کا نام براہین احمدیہ تجویز کیا۔۔۔۔معلوم ہوتا ہے کہ ہندوستان کے بہت سے علمی و دینی حلقوں میں اس کتاب کا پر جوش استقبال کیا گیا۔حقیقت یہ ہے کہ یہ کتاب بہت صحیح وقت پر شائع ہوئی تھی۔مرزا صاحب اور ان کے دوستوں نے اس کی تشہیر و تبلیغ بھی بہت جوش و خروش سے کی تھی۔اس کتاب کی کامیابی اور اس کی تاثیر کا ایک سبب یہ بھی تھا کہ اس میں دوسرے مذاہب کو چیلنج کیا گیا تھا۔اور کتاب جواب دہی کے بجائے حملہ آورانہ انداز میں لکھی گئی تھی۔اس کتاب کے خاص معترفین اور پر جوش تائید کرنے والوں میں مولانا