تاریخ احمدیت (جلد 1)

by Other Authors

Page 178 of 725

تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 178

تاریخ احمدیت جلدا 164 یر امین احمدیہ کی تصنیف و اشاعت کیا ہے کہ ہر منصف مزاج یہی سمجھے گا کہ قرآن کتاب اللہ اور نبوت پیغمبر آخر الزمان حق ہے۔دین اسلام منجانب اللہ اور اس کا پیرو حق آگاہ ہے۔عقلی دلیلوں کا انبار ہے۔خصم کو جو نہ جائے گریز اور نہ طاقت انکار ہے۔جو دلیل ہے بین ہے جو برہان ہے روشن ہے۔آئینہ ایمان ہے۔لب لباب قرآن ہے۔بادی طریق مستقیم - مشعل راہ قدیم مخزن صداقت معدن ہدایت- برق خرمن اعداء - عدد سوز ہر دلیل ہے۔مسلمانوں کے لئے تقویت کتاب الجلیل ہے۔ام الکتاب کا ثبوت ہے۔بے دین حیران ہے مبہوت ہے"۔کئی ماہ کے بعد پھر لکھا: اس کتاب کی زیادہ تعریف کرنی ہماری حد امکان سے باہر ہے اور حقیقت یہ ہے کہ جس تحقیق و تدقیق سے اس کتاب میں مخالفین اسلام پر حجبت اسلام قائم کی گئی ہے وہ کسی کی تعریف و توصیف کی محتاج نہیں ہم حاجت مشاطه نیست روئے دلارام را مگر اتنا تو کہنے سے ہم بھی دریغ نہیں کر سکتے کہ بلاشبہ کتاب لاجواب ہے اور جس زور شور سے ولا کل حقہ بیان کئے گئے ہیں اور مصنف مد ظلہ نے اپنے کشوفات و الہامات کو بھی مخالفین اسلام پر ظاہر کر دیا ہے۔اس میں اگر کسی کو شک ہو تو مکاشفات الہی اور انوار نامتناہی جو عطیہ الہی میں ان سب کو فیض صحبت مصنف سے مستفیض ہو کر پاوے اور عین الیقین حاصل کرلے۔اثبات اسلام و حقیت نبوت و قرآن میں یہ لاجواب کتاب اپنا نظیر نہیں رکھتی۔۔۔یہ وہ عالی مضامین اور قاطع دلائل ہیں جن کے جواب کے لئے مخالفین کو دس ہزار کی تحریص دلائی گئی ہے۔اور اشتہار دیئے ہوئے عرصہ ہو چکا۔مگر کسی کو قلم اٹھانے کی اب تک طاقت نہ ہوئی۔یہ تو فقط وہ ریویو ہیں جو اس زمانہ میں طبع ہو کر پبلک کے سامنے آئے۔ورنہ حقیقت یہ ہے کہ درد اسلام رکھنے والے جس جس مسلمان تک یہ تصنیف پہنچی وہ پہلی نظر ہی میں اس کی بے نظیر خوبیوں کا قائل ہو گیا۔صوفی میر عباس علی شاہ صاحب لدھیانوی نے براہین دیکھی تو کہنے لگے ” اس کتاب کی عبارت سے شان نبوت کی بو آتی ہے "۔m مولوی عبد اللہ صاحب غزنوی کے ایک مخلص ارادت مند اور عالم مولوی محمد یوسف صاحب اشتہار پڑھتے ہی بول اٹھے کہ یہ شخص کوئی بڑا کامل ہے اور اپنے بھانجے حضرت مولوی عبداللہ صاحب سے کہا کہ اگر تمہیں زیارت کے لئے جانا ہے تو ان کے پاس جاؤ۔دہلی کے نہایت فاضل علوم شرقیہ سے باخبر عالم اور اردو فارسی کے نامور شاعر نواب ضیاء الدین احمد خان صاحب (لوہارو ) براہین احمدیہ کو دیکھتے ہی فریفتہ ہو گئے اور یہاں تک وارفتگی کا عالم ہوا