تاریخ احمدیت (جلد 1)

by Other Authors

Page 180 of 725

تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 180

تاریخ احمدیت جلدا 149 براہین احمدیہ کی تصنیف و اشاعت محمد حسین صاحب بٹالوی کو خاص اہمیت حاصل ہے۔انہوں نے اپنے رسالہ اشاعت السنہ میں اس پر ایک طویل تبصرہ یا تقریظ لکھی جو رسالہ کے چھ نمبروں میں شائع ہوئی ہے۔اس میں کتاب کو بڑے شاندار الفاظ میں سراہا گیا ہے اور اس کو عصر حاضر کا ایک علمی کارنامہ اور تصنیفی شاہکار قرار دیا گیا → ایک مشہور سکھ لیڈر ارجن سنگھ صاحب ایڈیٹر "رنگین " امرت سر لکھتے ہیں: اس وقت کے مسلمان عالم یہ سمجھتے تھے کہ میرزا صاحب نے براہین احمدیہ لکھ کر اسلام کی کوئی بڑی خدمت کی ہے۔چنانچہ گھر گھر براہین احمدیہ کا چر چاتھا اور تمام پڑھے لکھے مسلمان اس کتاب کے مطالعہ کو ضروری سمجھتے تھے۔کیونکہ مسلمان عالموں کا خیال تھا کہ اس کتاب میں آریہ اور عیسائیوں کے تمام اعتراضوں کا جواب آچکا ہے۔ہر ایک مسلمان مناظر اس کتاب کو ایک نظر دیکھ لینا ضروری خیال کرتا تھا۔الغرض اس کتاب کی تصنیف کی وجہ سے جہاں میرزا صاحب ایک طرف ہندوستان کے مسلمانوں کی آنکھ کا تارا بن گئے وہاں آپ کو عیسائیوں اور آریوں میں بھی کافی شہرت حاصل ہو گئی اور عیسائیوں اور آریوں نے جواب در جواب کی جانب توجہ کی یہاں تک کہ نوبت مقدمہ بازی تک پہنچی اور مباہلوں اور بد دعاؤں پر ختم ہوئی"۔مخالفین اسلام کے کیمپ میں کھلبلی یہ تو مسلمانوں کی طرف سے خیر مقدم کانظارہ تھالیکن دوسری طرف مخالفین اسلام کے کیمپ میں براہین احمدیہ کے اشتہار کی اشاعت ہی نے کھلبلی مچادی۔وہ قادیان کی گمنام بستی سے اسلام کی تائید میں اٹھنے والی پر شوکت آواز پر بوکھلا اٹھے اور انہوں نے اخبار ”سفیر ہند “ ” نور افشاں اور رسالہ "وریا پر کا شک" میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو صریح بجو آمیز الفاظ میں یاد کرتے ہوئے براہین احمدیہ کا رد لکھنے کے لئے بڑے پر جوش اعلانات شائع کر دیے اور اسلام کی طرف سے لڑنے والے سپہ سالار کی مدافعت کے لئے پوری طرح متحد ہو گئے۔خدا کا شیر ان گیدڑ بھبکیوں سے بھلا کیسے ڈر سکتا تھا۔آپ نے ان لوگوں کی دعوت مبارزت (جو اصل مضمون پڑھنے بلکہ چھینے سے پہلے ہی رد لکھنے کا مضحکہ خیز اعلان کر کے اپنے ہاتھوں انصاف کا جنازہ نکال چکے تھے فورا منظور کرلی۔اور انہیں خدا کی قسم کا واسطہ دے کر گر جتی ہوئی آواز سے للکارا: سب صاحبوں کو قسم ہے کہ ہمارے مقابلہ پر ذرا توقف نہ کریں۔افلاطون بن جاویں بیکن کا او تار دھاریں۔ارسطو کی نظر اور فکر لاویں۔اپنے مصنوعی خداؤں کے آگے استمداد کے لئے ہاتھ جوڑیں۔پھر دیکھیں جو ہمارا خدا غالب آتا ہے یا آپ لوگوں کے الہ باطلہ "