تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 158
تاریخ احمدیت جلدا 104 آریہ کاج کے خلاف جہاد بڑے زور و شور سے شرائط مباحثہ پر الجھ رہے تھے اب ہمیشہ کے لئے خاموش ہو گئے۔اور کچھ عرصہ بعد آریہ سماج کے پلیٹ فارم سے علیحدگی اختیار کر کے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی شاندار کامیابی پر مہر لگادی۔منشی کنہیا لال منشی بختاور سنگھ صاحب مدیر آرید درین اور بایو ساروا پر شاد میں سے بھی کسی کو مرد میدان بننے کی جرات نہ ہو سکی۔البتہ قادیان آریہ سماج کے سیکرٹری لالہ شرمیت صاحب کو (جنہیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے دوسرے انعامی چیلینج میں خاص طور پر مخاطب کیا تھا) اخباری دنیا میں آنے کا شوق چرایا۔اور انہوں نے ابطال تاریخ کے مضمون یا پہلے چیلینج کا جواب دینے کی بجائے باد انارائن سنگھ کی خط و کتابت پر مفروضہ ثالث کی حیثیت سے ایک محاکمہ لکھ ڈالا اور اسے اگنی ہوتری کے رسالہ ہندو باند ھولا ہو ر میں بغرض اشاعت بھیجوا دیا۔پنڈت شو نرائن اگنی نے شرمیت پنڈت شو نرائن اگنی کا تبصرہ اور اسلام کی تیسری فتح رائے کے مضمون کو تو اپنے رسالہ میں جگہ دے دی لیکن ساتھ ہی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے معرکتہ الاراء مضمون پر ادارتی نوٹ میں شاندار تبصرہ لکھتے ہوئے شرمپت رائے کے مضمون کے وہ بجتے ادھیڑے کہ پھر انہوں نے مرتے دم تک اخباری دنیا کا رخ نہیں کیا۔اور اس طرح آریہ سماج کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام کے ہاتھوں تیسری مرتبہ شکست فاش ہوئی۔پنڈت اگنی ہوتری کے اس تاریخی تبصرہ کے چند اقتباسات درج ذیل ہیں۔پنڈت صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ابطال تاریخ والے مضمون اور چیلنج کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لکھا: ہم نے نہایت خوشی کے ساتھ اس مضمون کو درج رسالہ کیا تھا اور یہ امید دل میں قائم کی تھی کہ اگر مرزا صاحب کے دلائل جو نہایت صاف اور اصول منطق پر مبنی ہیں مذکورہ بالا صاحبان کی سمجھ میں آجا ئیں گے تو وہ بشرط اپنے اس اصول پر صادق رہنے کے کہ "راستی کے قبول کرنے اور ناراستی کے چھوڑنے کے لئے ہمیشہ مستعد رہنا چاہئے"۔ضرور ہے کہ عام اور علانیہ طور سے وہ خدا کی خالقیت اور ابطال تاریخ کو تسلیم کر کے "راستی" کی تقلید کی واقعی مثال قائم کریں گے۔اور اگر ان کی رائے میں مرزا صاحب کے دلائل بے بنیاد اور بے اصل ہیں تو اس بچے طریق کے ساتھ جو حق الامر کی تحقیقات کے لئے محققوں نے قائم کیا ہے مرزا صاحب کے دلائل کو اسی طرح نمبردار جس طرح مرزا صاحب نے انہیں رقم کیا ہے۔کل کو یا ان میں سے کسی حصہ کو غلط ثابت کر کے اپنے عقیدہ کو تقویت دیں گے۔باوجود اس کے کہ ہم نے مرزا صاحب کے مضمون کا پہلا حصہ اپنے اپریل کے رسالہ میں ختم کر دیا تھا اور یہ یقین کیا تھا کہ اثبات دعوئی کے لئے جس قدر دلائل وہ اس مضمون میں رقم کر چکے ہیں بخوبی