تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 157
تاریخ احمدیت جلد 104 آریہ سماج کے خلاف جہاد جواب دینے سے اگر پنڈت کھڑک سنگھ خاموشی اختیار کرے گا تو اس کا جھوٹا ہونا ثابت ہو گا“۔سوال نامہ میں بطور نمونہ قرآن مجید کے اٹھارہ احکام درج کرتے ہوئے حضور نے پنڈت کھڑک سنگھ کو چیلنج دیا کہ اگر یہ پہلو دید یا بائیبل سے دکھا دے تو اسے پانچ سو روپیہ نقد انعام دیا جائے گا۔جواب کے لئے آپ نے دس میں روز کی مہلت کا وعدہ بھی کیا اور پنڈت دیا نند کو مدد گار بنانے کی اجازت بھی دی۔نیز نہایت جلال آمیز لہجہ میں آنحضرت ﷺ کے خلاف اس کی زبان درازی اور دریدہ دہنی پر سخت غم وغصہ کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا کہ تم کو اگر حضرت خاتم الانبیاء پر کچھ اعتراض ہے تو زبان تہذیب سے وہ اعتراض جو سب سے بھاری ہو تحریر کر کے پیش کرو۔ہم تحریر کر دیتے ہیں کہ اگر وہ اعتراض تمہارا صحیح ہوا تو ہزار روپیہ ہم تم کو دیں گے۔پنڈت کھڑک سنگھ جو عملا پہلے ہی میدان چھوڑ چکا تھا آپ کے اس چیلنج کی تاب نہ لاکر قادیان سے ہی بھاگ گیا۔مگر اپنی خفت اور شرمندگی چھپانے کے لئے اپنے گاؤں اردو کی سے ایک مجمل ساجواب لکھ بھیجا اور پھر دید کو سلام کر کے اصطباغ لے لیا۔اور ریاض ہند اور چشمہ نو را مرت سر میں اپنے لیکچر چھپوائے اور صاف لکھا کہ وید علوم الہی اور راستی سے بے نصیب ہیں اس لئے وہ خدا کا کلام نہیں ہو سکتے۔اور آریوں کا دیدوں کے علم اور فلسفہ اور قدامت کے بارے میں ایک باطل خیال ہے۔اس نازک بنیاد پر وہ حال اور ابد کے لئے اپنی امیدوں کی عمارت اٹھاتے ہیں اور اس ٹمٹماتی ہوئی روشنی کے ساتھ زندگی اور موت پر خوش ہیں۔آریہ سماجی لیڈروں کو دوسرا چیلنج اب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے میدان مقابلہ کو کھڑک سنگھ تک محدود رکھنے کی بجائے آریہ کاج کے چوٹی کے لیڈروں تک وسیع کر دیا۔اور ابطال تاریخ کے متعلق گذشتہ پانچ سو روپیہ کے انعامی چیلنج کے ساتھ اخبار ہندو باند ھو" میں شائع کر دیا۔اور سوامی دیانند صاحب، پنڈت کھڑک سنگھ ضاحب ، بادا نارائن سنگھ صاحب، مشی جیون راس صاحب، منشی کنہیا لال صاحب، مشی بختاور سنگھ صاحب ایڈیٹر ” آریہ در پن" باید ساروا پر شاد صاحب، منشی شرمیت صاحب سیکرٹری آریہ سماج قادیان ، منشی اندر من صاحب مراد آبادی کو دعوت عام دی کہ وہ اسلام اور ویدک دھرم کی اس مقدس جنگ میں مرد میدان بن کر سامنے آئیں اور انعام حاصل کریں۔جواب کے موازنہ کے لئے حضور نے پادری رجب علی صاحب اور پنڈت شیو نرائن اگنی ہوتری کو مقرر فرمایا۔سفیر ہند میں آپ کے پہلے انعامی مضمون نے آریہ سماجیوں پر سکتہ کا عالم طاری کر دیا تھا۔اب جو یہ دوسرا چیلنج شائع ہوا تو دو طرفہ حملہ سے ان کے چھکے ہی چھوٹ گئے۔بادا نارائن سنگھ صاحب جو پنڈت کھڑک سنگھ سے متعلق مباحثہ اور دوسرے انعامی چیلنج سے پہلے