تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 159
تاریخ احمدیت جلدا ۱۵۸ آریہ سماج کے خلاف جہاد کافی ہیں۔مگر انہوں نے اسی پر اکتفا نہیں کیا اور ایک دوسرا حصہ اور تیار کر کے ہمارے پاس چھپنے کے لئے بھیج دیا ہے۔اس حصہ کو ہم نے ہنوز رسالہ میں درج نہیں کیا با میں خیال کہ جو دلائل مرزا صاحب پہلے حصہ میں مشتہر کر چکے ہیں اگر انہیں کے رو کرنے کے لئے اہل آریہ تیار نہیں ہیں تو پھر مضمون مذکورہ کو اور زیادہ دلائل کے ساتھ طول دینا بالفعل کچھ ضرور نہیں۔لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ ہماری امید بالکل خالی نہیں گئی۔لالہ شرمپت صاحب نے جو آریہ سماج قادیان کے سیکرٹری ہیں ایک مضمون اثبات تاریخ پر ہمارے پاس بر اور ہند میں مشتہر کرنے کے لئے بھیجا ہے۔چنانچہ اسے ہم درج رسالہ کرتے ہیں۔کس حیثیت کا وہ مضمون ہے اور اس کا نفس مضمون کسی سانچہ کاڑھلا ہوا ہے۔اور اس کی طرز عبارت سے راقم مضمون کی ذاتی لیاقت اور فضیلت کا کہاں تک اظہار ہوتا ہے۔اور اصول مناظرہ سے اس کا ڈھنگ بیان کہاں تک موافق یا نا موافق ہے۔اس کا فیصلہ ہم خود کرنا نہیں چاہتے بلکہ اپنے ناظرین پر چھوڑتے ہیں۔ہاں چند کلے بطریق ہدایت دوستانہ لالہ صاحب اور نیز ان کے ہم خیال صاحبوں کے لئے یہاں پر درج کرنا مناسب خیال کرتے ہیں۔اول: ہر ایک کام کے لئے اس کے موافق انسان میں ایک خاص مادہ ہونا ضروری ہے۔اصول مناظرہ یا بحث بھی اس قاعدہ سے خالی نہیں۔پس پیشتر اس کے کہ ہم کچھ کہنے یا لکھنے کی جرات کریں۔ہمارے لئے یہ لازم ہے کہ اپنے تئیں اصول مذکورہ کی صفت سے متصف بنالیں اور یہ کوئی آسان بات نہیں۔برسوں کی تعلیم اور خاص قسم کی تربیت سے یہ ملکہ پیدا ہوتا ہے۔اگر یہ ملکہ نہیں تو پھر صرف بولنا کون نہیں جانتا۔حیوانات بھی ضد سے آواز بر آمد کر سکتے ہیں۔دوم کسی اخبار یا رسالہ میں جس کے ہزاروں پڑھنے والے ہوتے ہیں۔جب کوئی مضمون چھپوانا منظور ہو تو اس میں بالخصوص اصول مذکور کے مد نظر رکھنے کی سخت ضرورت ہے۔کیونکہ بے سروپا نکو اس کے ساتھ کاغذ کو سیاہ کر کے ناظرین کے خیالات کو بگاڑنا ان کی طبیعت کو منتشر کرنا اور خواہ مخواہ ان کی تضیع اوقات کرنا نہ صرف راقم مضمون کے لئے بے جا ہے بلکہ ایڈیٹر کے لئے بھی (جو اندراج مضامین کے لئے پورا پور ازمہ وار ہے) یہ امرنا واجب ہے۔اب دیکھنا چاہئے کہ لالہ شرمیت صاحب نے کہاں تک ان اصولوں کی پابندی کی ہے۔اول : جو مضمون مرزا صاحب کا ابطال تاریخ پر ہمارے رسالہ میں مشتہر ہوا ہے لالہ صاحب نے اس کا جواب مطلق نہیں دیا۔دوم : باوجود مرزا صاحب کی طرف سے یہ طلب جواب خود مخاطب کئے جانے کے مضمون مذکورہ پر بطور ثالث کے رائے ظاہر کرتے ہیں "۔وغیرہ پنڈت شو نرائن اگنی ہوتری نے تبصرہ کے اختتام پر اس خیال کا اظہار بھی کیا کہ "اگر لالہ صاحبان