تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 124
تاریخ احمدیت جلدا ۱۲۳ تھمی جہاد کا آغاز سے دنیا میں آئے تھے اس لئے قدرت نے ابتداء ہی سے آپ کو قلم کی لازوال قوتوں سے مسلح کر کے بھیجا تھا۔اور نہ صرف نثر نگاری کے وسیع و عریض میدان کے آپ شہسوار تھے بلکہ اقلیم سخن کو آپ کی تاجداری پر ناز تھا۔حضور علیہ السلام نے اپنے ہم عصر مسلمان شعراء کی طرح شعر و شاعری کو بطور پیشہ اختیار نہیں کیا۔بلکہ اسے ذکر الٹی ، آنحضرت ﷺ سے عشق و فدائیت کے اظہار کا ایک موثر ذریعہ قرار دیا اور پھر اپنی خداداد روحانی و اخلاقی صلاحیتوں کی بدولت اس میں اپنے مسیحائی انفاس سے وہ روح پھونکی کہ الفاظ گویا اسلام کی ایک پر شوکت فوج میں بدل گئے اور تخیلات و تصورات زیر دست روحانی اسلحہ خانوں میں ڈھل گئے جو قیامت تک کفر و ضلالت کے فولادی قلعوں کو پاش پاش کرتے رہیں گے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک عالی خاندان کے فرد تھے جسے بجا طور پر مخنوروں کا گہوارہ قرار دیا جانا چاہئے۔آپ کے والد ماجد نے بھی طبیعت رساپائی تھی وہ فارسی میں نہایت عمدہ شعر کہتے تھے اور تحسین تخلص کرتے تھے۔مرزا سلطان احمد صاحب مرحوم نے ایک دفعہ ان کا کلام بلاغت نظام حافظ عمر د ر از صاحب ایڈیٹر ” پنجابی اخبار کو دیا تھا مگر وہ فوت ہو گئے اور ان کے ساتھ یہ قیمتی خزانہ بھی معدوم ہو گیا۔ایک ایرانی شاعر نے اس امر کا اظہار کیا تھا کہ ان کا فارسی کلام ایرانی شعراء کی طرح نصیح و بلیغ ہے۔اسی طرح حضور کے بڑے بھائی مرزا غلام قادر صاحب کو بھی ذوق سخن تھا اور وہ مفتون تخلص کرتے تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے شعری کلام کی ابتداء کس سن میں ہوئی ؟ اس بارے میں احمدی مورخین کوئی قطعی رائے قائم نہیں کر سکے۔حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب کو خلافت ثانیہ کے ابتداء میں مرزا سلطان احمد صاحب مرحوم سے شعروں کی ایک کاپی ملی تھی جس میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام نے اپنے دست مبارک سے شعر درج کئے تھے۔اس کاپی میں کئی شعر نامکمل تھے اور بعض شعر نظر ثانی کے لئے بھی چھوڑے ہوئے تھے۔یہ کاپی حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کے بیان کے مطابق بہت پرانی معلوم ہوتی ہے جو غالبا جوانی کا کلام تھا اس روایت سے ثابت ہوتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جوانی میں کلام کہنا شروع کیا تھا اور جوانی کے زمانے کا سب سے ابتدائی کلام جو معین تاریخ کے ساتھ کہتا ہے وہ ۱۸۷۳ء کا فارسی کلام ہے جس کا تذکرہ اوپر کے صفحات میں کیا جا چکا ہے۔آپ ابتداء میں فرخ تخلص کیا کرتے تھے۔جسے زمانہ ماموریت کے چند سال بعد بالکل ترک کر دیا۔ان دنوں آپ اگر چہ اردو اور عربی شعروں میں اپنے خیالات کا اظہار فرماتے لیکن آپ کی زیادہ تر توجہ اپنی خاندانی زبان فارسی کی طرف تھی۔یہ تو ابتدائی زمانہ کی بات ہے