تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 125
تاریخ احمدیت جلد ۱۲۴ قلمی جہاد کا آغاز در نه منصب ماموریت پر فائز ہونے کے بعد آپ نے اردو، عربی اور فارسی تینوں زبانوں کو اسلام کی منادی کا ذریعہ بنا لیا۔آپ کا کلام الگ الگ تینوں زبانوں میں درثمین کے نام سے چھپا ہوا ہے جس کی عظمت کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ آپ کی زندگی بھر کے اہم واقعات ، دعاوی اور علم کلام اس میں پوری شان جامعیت کے ساتھ موجود ہیں۔۱۸۸۰ء سے پہلے جبکہ آپ کی مستقل تصانیف کی اشاعت شروع نہ ہوئی تھی۔آپ کبھی کبھی اپنا کلام ملک کے بعض اخبارات میں بھی بھجوا دیتے تھے۔چنانچہ " منشور محمدی" میں ایک اردو نظم جو حضور نے قادیان سے ۸- محرم ۱۲۹۵ھ مطابق ۱۲ جنوری ۱۸۷۸ء کو رقم فرمائی اور نیاز نامہ متعلقہ جواب الجواب" کے عنوان سے تھی شائع ہوئی۔" حضرت اقدس علیہ السلام نے دعوئی مسیحیت سے قبل ”دیوان فرخ قادیانی" کے نام سے اپنی غزلیات اور قطعات کا ایک مجموعہ بھی مرتب فرمایا تھا جو آپ کی وفات کے آٹھ سال بعد دسمبر ۱۹۱۷ء میں ”ور مکنون" کے نام سے پہلی دفعہ منظر عام پر آیا۔اس مجموعہ کلام میں حمد الہی ، شان مصطفی ، غیر مذاہب کے رو اسلام کی حقانیت اصلاح نفس ، ذکر اولیاء نشان اولیاء علامات اولیاء اخراج نبوت از یهود، ترک دنیا دعا ایمان مذمت کبر ، نفس امارہ مرتبہ سلوک، نزمت شرک اور مذمت گور پرستی و غیره علمی و روحانی مسائل اور تصوف کے قیمتی اسرار و نکات بیان کئے گئے تھے۔اس دیوان کے زمانہ تصنیف کا تعین اس وقت تک نہیں کیا جا سکا۔سلسلہ احمدیہ کے پہلے مورخ جناب شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی کے نزدیک اس کا زمانہ تصنیف قیام سیالکوٹ کے دور سے شروع ہوتا ہے اور بعض کے نزدیک سیالکوٹ سے واپسی کے بعد خود مجموعہ میں چار مقامات پر ۱۷- اکتوبر ۶۱۸۷۳-۳۱- اگست ۲۱-۶۱۸۷۶- تمبر ۱۸۷۶ء اور ۱۶ نومبر ۱۸۸۸ء کی تاریخیں درج ہیں۔اور اقیاسات اور تخمینوں سے الجھے بغیر علی وجہ البصیرت کہا جا سکتا ہے کہ یہ مجموعہ ۱۸۷۳ء سے ۱۸۸۸ء تک کے پندرہ سالہ عرصہ کو محیط ہے۔ایک مقدمہ میں نشان آسمانی کا ظہور تخمینا ۱۸۷۳ء کا واقعہ ہے کہ کمشنر کی عدالت میں آپ زمینداروں کے خلاف ایک مقدمہ کی پیروی کے لئے امرت سر تشریف لے گئے۔فیصلہ سے ایک روز قبل کمشنر کا رویہ بہت سخت معاندانہ تھا اور اس نے زمینداروں کی ناجائز حمایت کرتے ہوئے یہاں تک کہہ ڈالا کہ یہ غریب لوگ ہیں تم ان پر ظلم کرتے ہو۔رات کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے خواب میں ایک انگریز کو ایک چھوٹے سے بچے کی شکل میں دیکھا کہ اس کے سر پر حضور ہاتھ پھیر رہے ہیں۔چنانچہ حضور دوسرے دن جب