تاریخ احمدیت (جلد 1)

by Other Authors

Page 114 of 725

تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 114

تاریخ احمدیت۔جلدا ۱۳ قادیان میں دینی مصروفیات شہنشاہ کی خاص تقدیروں میں سے ہے جسے دنیا کی کوئی بڑی سے بڑی حکومت بھی اپنی تدبیروں سے بدل نہیں سکتی اور ہرگز نہیں بدل سکتی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر بعد میں الہاما یہ بھی انکشاف فرمایا گیا کہ اسلامی غلبہ و استیلاء کا یہ زمانہ تین سو سال کے اندراندر بہر حال آجائے گا۔خدا کا یہ نوشتہ کب اور کس شکل میں پورا ہو گا یہ قبل از وقت بات ہے جس کی تفصیل مستقبل کا مورخ ہی بیان کر عیسائیت کی روک تھام ۱۸۷۷ء میں جبکہ حضور سیالکوٹ میں قیام پذیر تھے بابو یو خانم مسیحی کے ذریعہ سے (جو میزان الحق کے مصنف ڈاکٹر فنڈر کی وساطت سے حلقہ بگوش عیسائیت ہو ا تھا ) بٹالہ میں عیسائی مشن قائم ہوا اس مشن نے قائم ہوتے ہی مسلمانوں میں ارتدار کا جال پھیلانا شروع کر دیا۔سیالکوٹ کے دور کے بر عکس یہاں آپ نے ابتداء میں براہ راست عیسائی پادریوں سے کسی مباحثہ میں حصہ نہیں لیا۔بلکہ آپ کی زیادہ تر کوشش یہی رہی کہ آپ کے ماحول میں کچھ ایسے لوگ تیار ہو جائیں جو عشق رسول کا جذبہ لے کر آگے آئیں اور اشاعت حق و توحید کے لئے ہر وقت چوکس اور بیدار رہیں۔بٹالہ میں ان دنوں منشی نبی بخش صاحب پٹواری رہا کرتے تھے جنہیں بڑی مذہبی غیرت تھی اور عیسائیوں سے گفتگو کرنے کا شوق بھی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے انہیں تردید عیسائیت میں بعض الزامی اور تحقیقی جوابات سکھائے اور انہیں اجازت دی کہ وہ بے شک ایک عیسائی مناظر کی حیثیت سے دل کھول کر اعتراض کریں اور آپ سے ہر مسئلہ میں جواب حاصل کریں۔اگر تسلی نہ ہو تو دوبارہ پوری قوت سے اس پر جرح کریں۔حضور کے اس آزادانہ طریق کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان میں حضور کی خاص توجہ اور التفات سے عیسائیوں سے مباحثہ کرنے کی ایک قوت پیدا ہو گئی۔میاں نہیں بخش صاحب مرحوم کہتے تھے کہ حضرت اقدس کے پاس مرزا پور کی چھپی ہوئی بائبل تھی جسے آپ نے کئی مرتبہ پڑھا تھا۔حضور بعض اوقات خود بائبل پر نشان کرتے یا اقتباسات الگ تحریر فرما دیتے تھے جنہیں میں خوب یاد کر لیتا اور لکھ لیتا تھا۔حضرت اقدس مجھے کو عیسائیوں کے اعتراضات کے الزامی اور تحقیقی دونوں پہلوؤں پر مشتمل جوابات بتاتے تھے الزامی جوابات کے متعلق آپ کا ارشادیہ ہو تا تھا کہ جب تم کسی جلسہ عام میں پادریوں سے مباحثہ کرو تو ان کو ہمیشہ الزامی جواب دو۔اس لئے کہ ان لوگوں کی نیت نیک نہیں ہوتی اور لوگوں کو گمراہ کرنا۔اسلام سے بد ظن کرنا اور آنحضرت ﷺ پر حملہ کرنا مقصود ہے۔پس ایسے موقعہ پر الزامی جواب ان کا منہ بند کر دیتا ہے۔اور عوام جو اس وقت محض تماشے کے طور پر جمع ہو جاتے ہیں ایسے جواب سے متاثر ہو کر ان کے رعب میں نہیں آتے۔لیکن اگر کسی ایسے شخص سے گفتگو کرو جو ان سے متاثر ہو تو اس کو ہمیشہ