تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 115
تاریخ احمدیت جلدا ۱۱۴ قادیان میں دینی مصروفیات تحقیقی جواب پہلے دو اور اس پر مقابلہ کر کے دکھاؤ کہ اسلام اور عیسائیت کی تعلیم میں کیا فرق ہے۔ایسے لوگوں کو اگر الزامی جواب پہلے دیا جائے تو وہ ٹھو کر کھا سکتے ہیں کہ حقیقی جواب کوئی نہیں۔مولوی قدرت اللہ کا ارتداد اور واپسی اسی اثناء میں آپ کو یہ خبر سن کر دلی صدمہ ہوا کہ بٹالہ کے ایک مولوی قدرت اللہ نامی نے اسلام چھوڑ کر عیسائیت اختیار کرلی ہے۔حضور نے منشی نبی بخش صاحب ہی کو جو یہ خبر لانے والے تھے کافی دیر تک تا کیدی ارشاد فرمایا کہ مولوی صاحب کو سمجھا کر واپس اسلام میں لائیں اور اگر میری ضرورت ہوئی تو میں خود وہاں جانے کو تیار ہوں۔منشی صاحب نے عرض کیا کہ ان کے بپتسمہ لینے میں کچھ دنیوی اغراض لیٹی ہوئی ہیں اور قبول عیسائیت کا یہ قصہ حق و صداقت کی بنیاد پر مبنی نہیں ہے۔لیکن حضور نے فرمایا کہ اگر مالی مدد بھی دینی پڑے تو چندہ کر لو۔میں بھی شریک ہو جاؤں گا۔اس کے نام کے ساتھ مولوی کا لفظ ہے عوام پر اس کا برا اثر پڑتا ہے۔منشی نبی بخش صاحب نے عرض کیا کہ اگر ان سے مباحثہ کرنے میں کچھ سختی کرنا پڑی تو کیا کچھ سخت الفاظ بھی استعمال کرلوں۔حضور نے فرمایا کہ سختی کرنے سے بعض اوقات دل سخت ہو جاتا ہے اور پھر ایسے لوگوں کا واپس آنا مشکل ہو جاتا ہے۔اس لئے نرمی اور تالیف قلوب کا سلوک کرو۔یہ ضدی طبع ہوتے ہیں اپنی ضد میں آکر حق اور ناحق کی پروا نہیں کرتے۔منشی صاحب کو مولوی صاحب کے حق کی طرف رجوع دلانے کی بار بار تاکید کرتے ہوئے آپ نے فرمایا کہ اسلام سے کسی کا مرتد ہو جانا ایک بڑا امر ہے جس کو سرسری نہیں سمجھنا چاہئے۔ہمیں تو دوسروں کو اسلام میں لانا چاہئے اگر ہماری غفلت سے مسلمان مرتد ہو جائے تو ہم سب خدا تعالٰی کے حضور اس کے لئے جواب دہ ہوں گے۔منشی نبی بخش صاحب مرحوم کو حضور نے یہ بھی ہدایت فرمائی کہ تم جاکر کوشش کرو میں دعا کروں گا۔اور تم اس سے تنہا لو۔لوگوں کے سامنے نہ ملنا اور بحث نہ کرنا۔منشی نبی بخش صاحب کا بیان ہے کہ میں نے حضور کی قیمتی نصائح رہدایات پر عمل کیا چنانچہ نتیجہ یہ ہوا کہ بالا خر مولوی قدرت اللہ صاحب واپس اسلام میں آگئے جس سے حضرت اقدس کو بڑی خوشی ہوئی۔اس زمانہ میں حضور کی توجہ سے جنہیں صلیبی تحریک کے دفاع کی طرف توجہ پیدا ہوئی ان میں آپ کے صاحبزادے مرزا سلطان احمد صاحب مرحوم بھی تھے۔وہ بالالتزام اور پورے ذوق و شوق سے " منشور محمدی" و غیره اخبار میں مضامین لکھنے لگے اور موقعہ ملنے پر عیسائی مشنریوں سے مباحثہ بھی کر لیتے تھے۔II حضرت مرزا سلطان احمد صاحب مرحوم کا بیان ہے کہ " شرک کے خلاف حضرت کو اس قدر جوش تھا کہ اگر ساری دنیا کا جوش ایک پلڑے میں اور حضرت کا جوش دوسرے پلڑے میں ہو تو