تاریخ احمدیت (جلد 1)

by Other Authors

Page 113 of 725

تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 113

تاریخ احمدیت جلدا ١١٢ قادیان میں دینی مصروفیات عوامی جذبات تھے وہ بٹالہ میں بھی ابھر آئے۔اور حنفیوں نے ان کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔مگر ان معرکوں میں اکثر مولوی صاحب کا پلہ بھاری رہتا۔اسی دوران میں حسن اتفاق یہ ہوا کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کسی کام کے سلسلہ میں بٹالہ میں مقیم ہوئے۔آپ کو اس نوعیت کے مذہبی اکھاڑوں سے چنداں کوئی دلچسپی نہ تھی۔لیکن ایک شخص کے اصرار پر آپ کو بھی تبادلہ خیالات کے لئے مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کے مکان پر جانا پڑا۔دیکھا کہ مولوی صاحب اور ان کے والد مسجد میں ہیں اور سامعین کا ایک ہجوم مباحثہ کے لئے بیتاب ہے۔حضور مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کے سامنے بیٹھ گئے اور مولوی صاحب سے پوچھا کہ آپ کا دعویٰ کیا ہے؟ مولوی صاحب نے کہا کہ میرا دعوئی یہ ہے کہ قرآن مجید سب سے مقدم ہے۔اس کے بعد اقوال رسول کا درجہ ہے اور میرے نزد یک کتاب اللہ اور حدیث رسول اللہ کے مقابل کسی انسان کی بات قابل حجت نہیں ہے۔حضور نے یہ سن کر بے ساختہ فرمایا کہ آپ کا یہ اعتقاد معقول اور ناقابل اعتراض ہے۔حضور کا یہ کہنا ہی تھا کہ لوگوں نے دیوار دار شور مچادیا کہ ہار گئے ہار گئے۔جو شخص آپ کو ساتھ لے گیا تھا وہ سخت طیش سے بھر گیا کہ آپ نے ہمیں ذلیل اور رسوا کیا۔مگر آپ کو ارقار بنے رہے اور اس ہنگامہ آرائی کی ذرہ بھر پر دا نہ کرتے ہوئے فرمایا کہ کیا میں یہ کہوں کہ امت کے کسی فرد کا قول حضرت محمد مصطفی ﷺ کے قول پر مقدم ہے؟ اور اس طرح محض خدا کی خاطر سلسلہ بحث سے گریز اختیار کر لیا۔جو دنیا کے مناظرہ میں اپنی طرز کی پہلی مثال ہے۔چونکہ آپ نے یہ دستکشی خالصتا خدا اور رسول کی رضاء کے لئے کی تھی اس لئے خالق کائنات نے بھی عرش سے اس پر خوشنودی کا اظہار فرماتے ہوئے آپ کو الہانا خبر دی۔تیرا خدا تیرے اس فعل سے راضی ہوا اور وہ تجھے بہت برکت دے گا یہاں تک کہ بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے " اس کے بعد کشفی رنگ میں حضور کو وہ بادشاہ بھی دکھائے گئے جو گھوڑوں پر سوار تھے اور چھ سات سے کم نہ تھے ان بادشاہوں میں ہندوستان، عرب، ایران، شام اور روم کے بادشاہ بھی شامل تھے۔اس نظارہ کے بعد آپ کو خدا تعالی کی طرف سے بتایا گیا کہ یہ لوگ تیری تصدیق کریں گے اور تجھ پر ایمان لائیں گے اور تجھ پر درود بھیجیں گے اور تیرے لئے دعائیں کریں گے یاد رہے یہ وہی بٹالہ ہے جہاں حضور کو بچپن میں والد بزرگوار کی خفگی کے باعث دو ماہ تک پناہ گزین رہنا پڑا تھا۔بہر حال اس الہام میں ( جو موجودہ تحقیق کی رو سے اولین الہامات میں سے ہے) اسلام کے شاندار اور عالمگیر غلبہ اور عروج و اقبال کی خبر دی گئی ہے جو اگرچہ اس وقت تک پردہ غیب میں ہے۔لیکن زمین و آسمان کے