تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 112
تاریخ احمدیت۔جلدا HI قادیان میں دینی مصروفیات عمر بگذشت و نماند است جز از گام چند یہ کہ دریاد کے صبح کنم شام چند کہ دنیا را اسا سے محکم نیست و زندگی را اعتباری نے واپس من خاف على نفسه من أُفَةٍ غيره والسلام ترجمہ: مخدومی حضرت والد صاحب سلامت غلامانہ مراسم اور فدویانہ آداب کی بجا آوری کے بعد آپ کی خدمت میں یہ عرض کرتا ہوں کہ ان دنوں یہ امر مشاہدہ میں آ رہا ہے اور ہر روز یہ بات دیکھی جارہی ہے کہ تمام ممالک اور قطعات زمین میں ہر سال اس قسم کی وباء پھوٹ پڑتی ہے جو دوستوں کو دوستوں سے اور رشتہ داروں کو رشتہ داروں سے جدا کر دیتی ہے اور ان میں دائی مفارقت ڈال دیتی ہے اور کوئی سال بھی اس بات سے خالی نہیں گذرتا کہ عظیم الشان آگ اور المناک حادثہ ظاہر نہ ہوتا ہو یا اس کی تباہی کی وجہ سے شور قیامت بپا نہ ہو تا ہو۔یہ حالات دیکھ کر میرا دل دنیا سے سرد ہو گیا ہے اور چہرہ غم سے زرد اور اکثر حضرت شیخ سعدی شیرازی رحمتہ اللہ علیہ کے یہ دو مصرعہ زبان پر جاری رہتے ہیں اور حسرت و افسوس کی وجہ سے آنکھوں سے آنسو بہ پڑتے ہیں لمن تکیه بر عمر ناپائے دار مباش ایمن از بازی روزگار نا پائیدار عمر پر بھروسہ نہ کر اور زمانے کے کھیل سے بے خوف نہ ہو) نیز فرخ قادیانی کے دیوان سے یہ دو مصرعہ بھی میرے زخموں پر نمک پاشی کرتے رہتے ہیں) بدنیائے دوں دل مبند اے جواں که وقت اجل نے رسد ناگہاں اپنے دل کو دنیائے دوں میں نہ لگا کیونکہ موت کا وقت ناگہاں پہنچ جاتا ہے) اس لئے میں چاہتا ہوں کہ باقی عمر گوشہ تنہائی اور کنج عزلت میں بسر کروں اور عوام اور ان کی مجالس سے علیحدگی اختیار کروں اور اللہ تعالٰی سبحانہ کی یاد میں مصروف ہو جاؤں تا تلافی مافات کی صورت پیدا ہو جائے۔عمر بگذشت و نماند است جزایا می چند به که در یاد کے صبح کنم شامے چند (عمر کا اکثر حصہ گذر گیا ہے اور اب چند دن باقی رہ گئے ہیں۔بہتر ہے کہ یہ چند روز کسی کی یاد میں بسر ہوں) کیونکہ دنیا کی کوئی پختہ بنیاد نہیں۔زندگی کا کوئی اعتبار نہیں اور حیات مستعار پر کوئی اعتماد نہیں ہے جس شخص کو اپنا فکر ہوا سے کسی آفت کا کیا غم) - 1 محض اللہ مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی ۱۸۷۸ ۶ و ۱۸۶۹ء کا واقعہ ہے کہ مولوی محمد حسین سے مناظرہ سے دست کشی اور مستقبل کے صاحب بٹالوی جب دلی سے تحصیل علم کر کے واپس اپنے وطن بٹالہ آئے تو اہل حدیثوں کے متعلق ایک نہایت اہم خدائی بشارت خلاف ہندوستان کے دوسرے مقامات میں جو