تاریخ احمدیت (جلد 1)

by Other Authors

Page 111 of 725

تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 111

تاریخ احمدیت جلدا 11۔قادیان میں دینی مصروفیات ریاست کپور تھلہ کے سررشتہ تعلیم کی افسری سے انکار حضرت مسیح موعود عليه الصلوة والسلام سیالکوٹ سے ملازمت ترک کر کے قادیان تشریف لائے تو کچھ عرصہ بعد آپ کو ریاست کپور تھلہ کی طرف سے سررشتہ تعلیم کی افسری کی پیشکش کی گئی جسے حضور نے ٹھکرا دیا اور حضرت والد صاحب قبلہ کی خدمت میں عرض کیا۔میں کوئی نوکری کرنی نہیں چاہتا ہوں دو جوڑے کھدر کے کپڑوں کے بنا دیا کرو اور روٹی جیسی بھی ہو بھیج دیا کرو"۔یہ فیصلہ جب ان تک پہنچا تو انہوں نے ایک شخص میاں غلام نبی کو نہایت رقت بھرے دل کے ساتھ مخاطب کرتے ہوئے کہا ” میاں غلام نبی میں خوش تو اسی پر ہوں کچی راہ تو یہی ہے جس پر یہ چل رہا ہے"۔یا دالٹی کیلئے حضرت والد صاحب سے کلیتہ فراغت کی درخواست جب آپ دنیوی مقدمات اور ملازمت وغیرہ کے جھمیلوں سے تنگ آگئے تو آپ نے اپنے والد صاحب مرحوم کی خدمت میں درخواست لکھی کہ آپ کو حیات مستعار کے بقیہ دن یاد الہی میں بسر کرنے کی اجازت دی جائے اور دنیاداری کے معاملات میں شرکت سے بالکل مستثنیٰ قرار دیا جائے۔آپ نے یہ درخواست اس زمانہ کے دستور کے مطابق فارسی زبان میں لکھی تھی جس کے الفاظ یہ ہیں: حضرت والد مخدوم من سلامت مراسم غلامانه و قواعد فدویانہ بجا آورده معروض حضرت والا میکند - چونکہ دریں ایام برای العین سے بینم و بچشم سر مشاہدہ میکنم که در همه ممالک و بلاد ہر سال چناں دبائے مے افتد که دوستان را از دوستان و خویشان را از خویشان جدا میکند و پیچ سالے نے بینم کہ ایس نائرہ عظی چنیں حادثہ الیم در آن سال شور قیامت نیفگند نظر برای دل از دنیا سرد شده است و رو از خوف جان زرد و اکثر ایں دو مصرعہ شیخ مصلح الدین شیرازی بیاد می آیند واشک حسرت ریخته میشود مکن تکیه بر عمر ناپائے دار مباش ایمن از بازی روزگار و نیز این دو مصرعه ثانی از دیوان فرخ قادیانی نمک پاش جراحت دل میشود سه بدنیائے دوں دل میبند اے جواں کہ وقت اجل نے رسد ناگہاں لہذا میخواهم که بقیه عمر در گوشه تنهائی نشینم و دامن از صحبت مردم چینم و بیا داد سبحانه مشغول شوم مگر گذشته را عذرے و مافات را تدار کے شود۔