لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 530
530 آل انڈیا نیشنل لیگ کے بارہ میں ضروری اعلان محترم جناب شیخ بشیر احمد صاحب صدر آل انڈیا نیشنل لیگ نے ملک کے موجودہ حالات سے متاثر ہو کر اور یہ دیکھتے ہوئے کہ اب بعینہ ویسے حالات پیدا ہو گئے ہیں جیسے کہ اس وقت تھے جب کہ حضرت امیر المومنین خلیفہ امسیح الثانی نے آل انڈیا نیشنل لیگ کا قیام منظور فرمایا تھا، حضرت امیر المومنین کی طرف سے منظوری کی امید پر جولائی ۱۹۴۶ء سے دوبارہ کام شروع کر دیا اور حضور سے درخواست کی کہ حضور اس امر کی منظوری دیں کہ آل انڈیا نیشنل لیگ وقت کے تقاضے کے مطابق کام کو پھر جوش کے ساتھ شروع کرے جس پر حضور نے از راہ کرم اجازت مرحمت فرمائی۔چنانچہ لیگ کے مرکزی دفتر نے سابقہ اور نئے ممبران کو دوبارہ اپنے نام پیش کرنے کی ہدایت کی۔29 محترم جناب چوہدری محمد اسد اللہ خاں صاحب دہلی میں حضرت امیر المومنین کے ہمراہ سید نا حضرت امیر المومنین خلیفہ المسیح الثانی جب ستمبر ۱۹۴۶ء کے آخری عشرہ میں دہلی تشریف لے گئے تو لاہور سے محترم چوہدری محمد اسد اللہ خاں صاحب کو بھی طلب فرمایا تا جماعت کے اور سر کردہ احباب کے ساتھ مل کر انہیں بھی ملک وقوم کی خدمت کا موقعہ دیا جائے۔یادر ہے کہ یہ وہ زمانہ تھا جب کہ انگریز ہند وستانیوں کو ہندوستان کی حکومت سونپنا چاہتے تھے مگر کانگرس اور مسلم لیگ کے لیڈ رکوئی ایسا سمجھوتہ کرنے پر راضی نظر نہیں آتے تھے جس سے یہ کام خوش اسلوبی کے ساتھ طے پا جائے۔ان حالات میں حضرت امیر المومنین رضی اللہ عنہ اپنے چند خدام کے ساتھ بنفس نفیس دہلی تشریف لے گئے۔اور خود بھی مختلف الخیال لیڈروں سے مل کر ان کی صحیح رہنمائی کر کے اس مسئلہ کو سلجھانے کی سعی فرمائی اور اپنے خدام کو بھی بعض لیڈروں سے ملاقات کر کے اپنا نقطہ نظر واضح کرنے کی ہدایت فرمائی۔ان خدام میں جناب چوہدری اسد اللہ خاں صاحب حال امیر جماعت احمد یہ لا ہور کو بھی شامل کیا۔محترم مولانا جلال الدین صاحب شمس کی لندن سے واپسی اور امریکن پریس کے نمائندے سے انٹرویو حضرت مولانا جلال الدین صاحب شمس محترم منیر الحصنی شامی کے ہمراہ دس سال انگلینڈ میں