لاہور ۔ تاریخ احمدیت

by Other Authors

Page 531 of 666

لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 531

531 لندن مشن کے انچارج کے عہدہ سے فارغ ہو کر اپنے وطن مولوف تشریف لائے تو قادیان پہنچنے سے قبل ایک رات آپ نے جناب شیخ بشیر احمد صاحب ایڈووکیٹ امیر جماعت احمدیہ کے مکان ۱۳۔ٹمپل روڈ پر قیام فرمایا۔لاہور اسٹیشن پر لاہور کی جماعت نے آپ کا شاندار استقبال کیا۔پریس کے نمائندوں کو بھی آپ کی آمد کی اطلاع دی گئی۔چنانچہ ابھی آپ محترم شیخ صاحب کے مکان پر پہنچے ہی تھے کہ تھوڑی دیر بعد ایسوسی ایٹڈ پریس آف امریکہ کا نمائندہ آپ کی ملاقات کے لئے آ گیا۔خاکسار مؤلف اس ملاقات کے وقت وہاں موجود تھا۔نمائندہ مذکور کو آپ نے بیان دیتے ہوئے فرمایا: ” میری یہی خواہش ہے کہ اہل ہند عدم اتحاد کی روح کو خیر باد کہہ کر بین الاقوامی تحریک معاونت میں اپنے لئے باعزت جگہ حاصل کریں۔آج ہندوستان کے متعلق اقوام عالم کا نظریہ حقارت سے پُر ہے“۔آپ نے مزید فرمایا : بھی وقت ہے کہ ہم اپنے وطن کو عمدگی سے سنوار لیں اور اس طرح اپنے آپ کو اغیار کے تمسخر کی آماجگاہ بنے رہنے سے محفوظ و مامون کر لیں“۔مولانا موصوف نے پُر زور الفاظ میں فرمایا کہ اختلافات یقیناً دوستانہ طریق پر طے ہو سکتے ہیں۔اسی طرح آپ نے مشرق وسطی میں لڑائی جھگڑوں اور باہمی خلفشار پر بہت کچھ روشنی ڈالی اور آخر میں فلسطین کے متعلق صدر ٹرومین کے آخری بیان دربارہ داخلہ یہود کو ہوشیاری اور چالاکی کی ایک چال قرار دیا کہ جو آئندہ صدارتی انتخابات میں یہودی ووٹس حاصل کرنے کی غرض سے چلی گئی ہے۔ملک خضر حیات کے استعفیٰ میں آخر یہل چوہدری سر محمد ظفر اللہ خاں صاحب کی مساعی جمیلہ: ۱۹۴۷ء کا سال برصغیر پاک و ہند میں نہایت ہی ہنگامہ خیزی کا سال تھا۔ملک کے طول وعرض میں ہندو مسلم فسادات ہو رہے تھے۔پنجاب میں ملک خضر حیات خاں ٹوانہ یونینسٹ پارٹی کے لیڈر ہونے کی وجہ سے پنجاب کے وزیر اعظم تھے اور گو انتخابات میں مسلم لیگ کا فی نشستیں حاصل کر چکی تھی مگر