لاہور ۔ تاریخ احمدیت

by Other Authors

Page 469 of 666

لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 469

469 سے کتابی شکل میں شائع ہوا۔اس کا ترجمہ کرنے کے لئے حضرت نے ایک کمیٹی بنائی جس کے ممبر مندرجہ ذیل حضرات تھے۔حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خاں صاحب، حضرت مولوی شیر علی صاحب اور حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب۔ان بزرگوں نے دن رات ایک کر کے اس کام کو حضور کی طرف سے وقت مقررہ کے اندر مکمل کیا۔چونکہ یہ ایک طویل مضمون تھا اور وقت مقررہ کے اندر ختم نہ کیا جا سکتا تھا اس لئے حضور نے ایک خلاصہ تیار کیا۔جس کا نام ” سلسلہ احمدیہ (Ahmadiyya Movement) رکھا گیا اور پھر اس کا خلاصہ کا نفرنس میں پڑھا گیا۔۲۸ حضرت امیر المومنین رضی اللہ عنہ اپنے ساتھیوں کے ہمرا ہ۱۲۔جولائی ۱۹۲۴ء کو قادیان سے مذکورہ لندن کانفرنس میں شرکت کے لئے روانہ ہوئے۔حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خاں صاحب جو حضور کے ترجمان خصوصی تھے پہلے ہی یورپ کو روانہ ہو چکے تھے۔امرتسر سے لیکر دہلی تک برف کا انتظام حضرت میاں محمد موسیٰ صاحب ( نیلہ گنبد ) نے کیا اور خود بھی دہلی تک ہمرکاب رہے۔حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خاں صاحب کا لندن کا نفرنس میں مضمون پڑھ کر سنانا ۲۲ ستمبر ۱۹۲۳ء کو ویمبلے کانفرنس میں حضرت خلیفہ مسیح کا بے نظیر مضمون پڑھ کرسنایا جانا تھا۔حضور کے مضمون کے لئے پانچ بجے شام کا وقت مقرر تھا۔اس مضمون سے پہلے محترم خواجہ کمال الدین صاحب بانی دو کنگ مشن اہلسنت والجماعت کی طرف سے اور شیخ خادم و خیلی صاحب اہل تشیع کی طرف سے اپنے اپنے مضامین سُنا چکے تھے اور تیسرا نمبر حضرت خلیفہ امسیح کا تھا۔حضور کا موضوع اسلام میں تحریک احمدیت تھا۔مضمون شروع ہونے سے پہلے صدر جلسہ سر تھیوڈر ماریسن نے سامعین سے حضور کا تعارف کرانے کے بعد حضور سے درخواست کی کہ لیکچر شروع ہونے سے قبل اپنے کلمات سے بھی حاضرین کو محظوظ فرمائیں۔اس پر حضور نے انگریزی زبان میں تقریر کرتے ہوئے فرمایا :۔