لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 438
438 مشہور کرنا شروع کر دیا کہ الفضل“ میں مولوی محمد علی صاحب کو گالیاں دی گئی ہیں۔جناب ڈاکٹر محمد شریف صاحب بٹالوی سول سرجن جو اس وقت سرگودھا میں متعین تھے قادیان تشریف لے گئے اور سید نا حضرت محمود رضی اللہ عنہ سے اس امر کا خاص طور پر ذکر کیا۔حضور نے فرمایا۔ڈاکٹر صاحب! یہ مضامین میرے نہیں حضرت خلیفہ اسیح الاوّل رضی اللہ عنہ نے لکھوائے ہوئے ہیں۔وہ یہ سن کر حیران ہو گئے اور کہا کہ یہ کس طرح ہو سکتا ہے؟ حضرت صاحب تو مولوی صاحب کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ان کے خلاف ایسے الفاظ کس طرح استعمال کر سکتے ہیں؟ حضور نے اسی وقت اخبار کا پر چہ منگوایا اور مضمون متعلقہ کے حاشیہ پر لکھا کہ یہ مضمون حضرت خلیفتہ المسیح اوّل کا لکھوایا ہوا ہے اور جس قد رسخت الفاظ ہیں وہ آپ ہی کے ہیں۔میں نے اپنی طرف سے نہیں لکھے ڈاکٹر صاحب موصوف وہ پر چہ لے کر حضرت خلیفہ امسیح الاوّل کی خدمت میں حاضر ہوئے اور چونکہ انہوں نے جلد واپس جانا تھا اس لئے جاتی دفعہ وہ پر چہ اپنے ایک رشتہ دار کے ہاتھ حضور کو بھجوا دیا اور کہلا بھیجا کہ آپ کی بات درست ہے۔ہے غرض یہ پہلا واقعہ تھا جس میں منکرین خلافت نے حضرت خلیفہ اول کی پالیسی کونظر انداز کر دیا اس کے بعد دن بدن یہ لوگ مخالفت میں بڑھتے چلے گئے کشی کہ وہ وقت آیا کہ حضرت خلیفہ امسیح اوّل نے اخبار ”پیغام صلح ، منگوانا بند کر دیا اور اسے ”پیغام صلح کی بجائے ”پیغام جنگ“ لکھنا شروع کر دیا۔ان لوگوں نے سوچا کہ ”پیغام صلح کے ذریعہ ہم سلسلہ کے عقائد میں تو کسی حد تک بگاڑ پیدا کر سکتے ہیں ( گو یہ بھی ان کی خام خیالی تھی مگر جب تک حضرت خلیفتہ المسیح اول اور خاندان حضرت مسیح موعود علیہ السلام خصوصاً حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب کے خلاف بھی جماعت کو پورے طور پر بدظن نہ کر لیا جائے ہمارا مقصد حاصل نہیں ہو سکتا۔اور یہ کام چونکہ ”پیغام صلح کے ذریعہ کھل کر سرانجام نہیں دیا جا سکتا تھا۔کیونکہ پیغام صلح ان لوگوں کا ایک آفیشل آرگن تھا۔اور اس کے مضامین ان کی طرف ہی منسوب ہوتے تھے اس لئے انہوں نے ایک خاص منصو بہ کے ماتحت دوخفیہ ٹریکٹ’ اظہار الحق کے عنوان سے نکالے۔ان ٹریکٹوں میں انہوں نے حضرت خلیفہ امسیح اول اور خاندان حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خلاف خوب جی بھر کر ز ہرا گلا اور اپنے دل کی بھڑاس نکالی مگر بز دلی دیکھئے کہ حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب