لاہور ۔ تاریخ احمدیت

by Other Authors

Page 437 of 666

لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 437

437 فرما ئیں تو میں اخبار نہ نکالوں۔مگر حضور نے فرمایا کہ اس اخبار اور اس اخبار کی اغراض میں نمایاں فرق ہے۔آپ اس سے متعلق اپنی کوشش جاری رکھیں۔چنانچہ حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل کے ارشاد کے ما تحت قادیان سے ۱۹۔جون ۱۹۱۳ء کو الفضل کا پہلا پرچہ جاری ہوا۔”پیغام صلح“ کا اجراء۱۰۔جولائی ۱۹۱۳ء جیسا کہ اوپر ذکر ہو چکا ہے منکرین خلافت اب کھلم کھلا حضرت خلیفہ اسیح الاوّل اور جماعت مبائعین کے خلاف پراپیگنڈہ کرنے کی ضرورت شدت سے محسوس کر رہے تھے اور اس کے لئے سوائے ایک اخبار نکالنے کے اور کوئی مؤثر ذریعہ نظر نہیں آتا تھا۔اس لئے انہوں نے ۱۰۔جولائی ۱۹۱۳ء کو احمد یہ بلڈ نگکس لاہور سے ایک اخبار بنام ”پیغام صلح نکالنا شروع کر دیا۔ابھی اس اخبار کو جاری ہوئے تھوڑا ہی عرصہ گذرا تھا کہ گورنمنٹ کو رفاہ عامہ کی غرض سے کانپور کی ایک مسجد کا غسلخانہ گرانے کی ضرورت پیش آئی۔ملک کے اخبارات نے گورنمنٹ کے اس اقدام کی شدید مخالفت کی اور اسے مذہب میں دخل اندازی قرار دیا۔مگر حضرت خلیفتہ المسیح الاوّل کی رائے یہ تھی کہ غسلخانہ مسجد کا حصہ نہیں۔اس لئے گورنمنٹ کے اس فعل کو قابل اعتراض قرار نہیں دیا جا سکتا۔منکرین خلافت کو اس بات کا علم تھا کہ اس بارہ میں حضرت خلیفہ اول کی کیا رائے ہے؟ مگر وہ بھی ملک کی اس رو میں بہہ گئے اور پیغام صلح نے دیگر اخبارات کی ہمنوائی میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھی۔پھر حیرت کی بات یہ ہے کہ ”پیغام صلح میں جو مضامین حضرت خلیفہ المسیح الاول کی پالیسی کے خلاف نکلا کرتے تھے وہ جناب مولوی محمد علی صاحب سے لکھوائے جاتے تھے جوصدرانجمن احمد یہ قادیان کے سیکرٹری تھے۔حضرت خلیفہ امسیح الاوّل کو جب مولوی صاحب کی اس دورخی پالیسی کا علم ہوا تو حضور سخت ناراض ہوئے اور حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب کو بلوا کر دو مضامین کے نوٹ لکھوائے۔جن میں اس بات پر خاص طور پر زور دیا گیا کہ غسلخانہ مسجد کا حصہ نہیں۔اور یہ کہ جولوگ اس موقعہ پر شورش کر رہے ہیں وہ ملک کی پُر امن فضا کو مکدر کر کے کوئی اچھا کام نہیں کر رہے مگر ساتھ ہی یہ ہدایت فرمائی کہ یہ مضامین آپ کی طرف منسوب نہ کئے جائیں۔جب یہ مضامین شائع ہو گئے تو چونکہ ان مضامین میں اخبار پیغام صلح کے نکتہ نگاہ سے اختلاف کیا گیا تھا اس لئے منکرین خلافت اور ان کے ہمنواؤں نے یہ